امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے اقدامات نے ایران پر سیاسی، اقتصادی اور سفارتی دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے،امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔
ایران کے حوالے سے کانگریس میں پیش کی جانے والی ایک قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایسے وقت میں جب اہم سفارتی اور تزویراتی معاملات زیر غور ہیں، اس نوعیت کی قراردادیں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض قانون سازوں کے اقدامات نے ان کے لیے معاملات کو مشکل ضرور بنایا ہے، تاہم وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پرعزم ہیں،وہ ہمیشہ اپنے منصوبوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات میں طاقت، سفارت کاری اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن خطے میں استحکام اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر ملک کے اندر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کانگریس میں پیش کی گئی مشترکہ قرارداد پر ووٹنگ کے دوران اراکین کی رائے منقسم نظر آئی، تاہم قرارداد کو معمولی برتری سے منظوری مل گئی۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ ڈالے گئے۔ اس سے قبل رواں ماہ یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی، جس کے بعد ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔
واضح ر ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور جاری سفارتی کوششیں آنے والے دنوں میں عالمی توجہ کا مرکز بنی رہیں گی، امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پالیسی اختلافات بھی اس معاملے پر مستقبل کے فیصلوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔







