امریکی ریاست پنسلوینیا کے علاقے ماؤنٹ پوکونو میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پنسلوینیا کے اسٹیل ورکرز ان کی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے غیر معمولی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ٹیرِف نہ لگائے جاتے تو آج امریکا میں کوئی اسٹیل نہ بنتا۔ ایک بھی اسٹیل مل باقی نہ رہتی اور یہ قومی سلامتی کے لیے تباہ کن ہوتا۔
امریکی صدر نے دو اپریل کو 185 ممالک اور علاقوں سے درآمدات پر 10 سے 49 فیصد تک ٹیرِف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جو مرحلہ وار 5 اور 9 اپریل کو نافذ ہوئے۔
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیرِف کے ذریعے امریکا میں اربوں ڈالرز آ رہے ہیں، جن کا استعمال ان کسانوں کی مالی مدد کے لیے کیا گیا جنہیں عالمی تجارتی کشمکش کے باعث نقصان پہنچا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ٹیرِف سے حاصل ہونے والے فنڈز میں سے 12 ارب ڈالر کسانوں کی امداد کے لیے مختص کیے۔ ایک بڑی انرجی کمپنی پنسلوینیا میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے مقامی روزگار اور صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکا میں 4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ان ممالک کو یقین ہے کہ امریکا ایک سال میں دوبارہ مضبوط ہوا ہے
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں پیٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن تک آ گئی ہے اور ورکنگ کلاس کی اجرتیں دگنی ہو چکی ہیں، تاہم آزاد تجزیہ کار ان دعوؤں کو مبالغہ قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: یورپی رہنماؤں کا امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی پر شدید ردِعمل، امریکا اپنے سیکیورٹی شیڈ کے ممکنہ خاتمے پر غور کر سکتا ہے
انہوں نے صدر جو بائیڈن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن دور میں 2 کروڑ 50 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن ملک میں داخل ہوئے، جب کہ موجودہ انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے ریورس مائیگریشن دیکھنے میں آ رہی ہے یعنی لوگ واپس جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کی سب سے سخت سرحد شمالی کوریا کی ہے اور امریکا بھی اب اسی سمت بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے کئی عالمی تنازعات میں کشیدگی کم کرائی، جس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر اور تھائی لینڈ–کمبوڈیا کشیدگی میں کمی شامل ہے، تاہم یہ دعوے آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں۔







