رپورٹ کے مطابق اس مختصر مگر شدید تنازع میں پاکستان کی فوجی پیش رفت نے چینی ساختہ اسلحے اور ٹیکنالوجی کو نمایاں کر دیا۔ پاکستان نے ابتدا میں انڈیا کے پانچ طیارے مارنے کا دعویٰ کیا جو بعد میں بڑھا کر سات کر دیے گئے، جب کہ اسلام آباد نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تردید کی۔ 

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا کے تین فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بعد اس نے 26 انڈین اہداف کو بھی نشانہ بنایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ  عملاً آٹھ طیارے مار گرائے گئے۔

رپورٹ میں انڈیاکے اس دعوے کا بھی ذکر ہے کہ چین نے جھڑپ کے دوران پاکستان کو انڈین فوجی پوزیشنز کی براہِ راست معلومات فراہم کیں۔ پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کیا، جب کہ چین نے نہ اس کی تصدیق کی نہ تردید۔ رپورٹ کے مطابق اس تنازع نے بیجنگ کو اپنے جدید ہتھیاروں کی جنگی آزمائش اور تشہیر کا موقع فراہم کیا۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی، جس سے خود چین اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نومبر اور دسمبر 2024 میں چین اور پاکستان نے تین ہفتے طویل ’وارئیر-VIII‘ انسدادِ دہشت گردی مشقیں کیں، اور اس سال فروری میں چین کی بحریہ نے پاکستان کی کثیر القومی ’امن‘ مشقوں میں حصہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 تک پاکستان کی 82 فیصد دفاعی درآمدات چین سے ہوئیں، جب کہ مئی کی جھڑپ میں پہلی بار چین کے جدید نظام بشمول HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائل اور J-10 لڑاکا طیاروں کو عملاً استعمال کیا گیا، جس نے چین کو اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی دکھانے کا نادر موقع فراہم کیا۔

جون 2025 میں چین نے پاکستان کو 40 جے-35 ففتھ جنریشن طیارے، KJ-500 ایئر وارنگ طیارے اور میزائل ڈیفنس سسٹم بیچنے کی پیش کش بھی کی۔ اسی دوران پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا جو بڑھ کر 9 ارب ڈالرز ہو گیا۔

رپورٹ میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے اس الزام کا بھی ذکر ہے کہ چین نے فرانس کے رفال طیاروں کی فروخت کو متاثر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی مہم چلائی، جس میں ویڈیو گیم کے مناظر اور اے آئی تصاویر کو انڈین طیاروں کا ملبہ ظاہر کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تین روزہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ایک حملہ ہوا جسے انڈیا نے بغیر ثبوت پاکستان سے جوڑ دیا۔ پاکستان نے الزام مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں 7 مئی کو انڈیا نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے، جس پر پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ چار روز تک جاری رہنے والی فضائی جھڑپ 10 مئی کو امریکا کی مداخلت پر ختم ہوئی۔