غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران میں بہت سا اسلحہ بھیجا تاکہ لوگ اپنا دفاع کر سکیں، امریکا اس وقت ایران کو تباہ کر رہا ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ ایرانی انفراسٹرکچر، بشمول پلوں اور بجلی گھروں، کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں نہ پل ہوں گے، نہ پاور پلانٹس، کچھ بھی نہیں بچے گا۔
🇺🇸🇮🇷⚡️– President Trump on arming Iranian protesters:
— MonitorX (@MonitorX99800) April 6, 2026
We sent some guns; they were supposed to go to the people of Iran. You know what happened? The people we sent them through kept them. pic.twitter.com/T1bJAIbr3v
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکی شہریوں کو نادان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایک بنیادی مقصد کے لیے ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر نے نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ یہ اسلحہ کس کے پاس گیا یا کس گروہ نے اسے اپنے پاس رکھا اور نہ ہی مزید کچھ تفصیلات بتائیں کہ کس طرح سے ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔







