عالمی خبررساں اداروں کے مطابق ترکی کے شہر استنبول میں ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہ جنگ سے خوفزدہ ہے اور نہ ہی مذاکرات سے گریزاں، بلکہ دونوں آپشنز کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے خلیج میں بھاری فوجی تعیناتی اور مسلسل حملوں کی دھمکیاں ’دھمکی آمیز سفارت کاری‘ کے مترادف ہیں، جس کے سائے میں کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا واقعی سفارت کاری میں سنجیدہ ہے تو اسے جارحانہ بیانات اور فوجی دباؤ ترک کرنا ہوگا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ خطے کے ممالک، جن میں ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور قطر شامل ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے ترکی کے کردار کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقرہ ایک ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر کام کر رہا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات منصفانہ، برابری کی بنیاد پر اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کے بغیر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اپنی دفاعی اور میزائل صلاحیتوں پر کسی صورت مذاکرات نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم اسی دوران امریکا نے ایک اور جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا۔ امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق فوج صدر کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو نہ صرف جوہری پروگرام روکنا ہوگا بلکہ مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی بند کرنا ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت کسی ملک سے بھی اس جنگ میں کودنے کی حمایت کا مطالبہ نہیں کیا، ایرانی سفیر

ایران اس مطالبے کو مسترد کر چکا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام پر بات کرے۔ ایرانی حکام کے مطابق میزائل پروگرام قومی سلامتی کا حصہ ہے اور یہ ایک ’ریڈ لائن‘ ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ترکی فوجی حل کے خلاف ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں خطے میں بدامنی کا باعث بن رہی ہیں اور کسی ایک طاقت کی بالادستی ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات سے قبل امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی دھمکی آمیز پالیسیوں، پابندیوں اور گزشتہ برس جون میں ہونے والی جنگ جیسے اقدامات نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سفارتی کوشش کی کامیابی کا دارومدار نیک نیتی اور جارحانہ رویوں کے خاتمے پر ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دے گا، تاہم تہران جنگ نہیں بلکہ مکالمہ چاہتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسے یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد قرار دے سکتا ہے جو اس اقدام میں شامل ہوں۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ اس فیصلے کے نتائج یورپی ممالک کو خود بھگتنا ہوں گے۔

مجموعی طور پر ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ نہ تو دھمکیوں کے آگے جھکے گا اور نہ ہی اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرے گا، تاہم اگر برابری، احترام اور دباؤ سے پاک ماحول فراہم کیا گیا تو سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔