ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور سینئر عسکری رہنما میجر جنرل محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا آئندہ دو سے تین روز کے دوران ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیاں کرتا ہے تو ایرانی مسلح افواج مکمل جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، ایسے حالات میں ایران صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمن کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔
محسن رضائی نے کہا کہ حالیہ امریکی حملوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اگر کشیدگی میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔
Iran to GO ON ‘OFFENSIVE’ if US BOMBINGS CONTINUE
— RT (@RT_com) July 17, 2026
‘COMPLETE OFFENSIVE AND DESTRUCTION’
‘We’re NO LONGER SATISFIED with reciprocity’ — top IRGC official Mohsen Rezaee pic.twitter.com/lKB7UALpca
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک اور باہمی مفاہمت کی روح کی خلاف ورزی کی ہے، ان اقدامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتی فریم ورک عملی طور پر اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔
ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے متعدد ایسے اقدامات کیے جنہیں تہران معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا میں ناکامی، آبنائے ہرمز کے قریب متبادل بحری راستوں کی حمایت، ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے، اور ایران کے مالی اثاثوں کی عدم واپسی ایسے معاملات ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق امریکا نے مذاکرات کو سفارتی حل کے بجائے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے ایک طرف بات چیت جاری رکھی جبکہ دوسری طرف فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھیں، جس کے باعث مذاکرات اور جنگ کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمتِ عملی اب ناقابلِ قبول ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی یا کشیدگی میں عارضی کمی کے دوران امریکی فوج نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی، تاہم ایرانی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے، جنگ کا دائرہ مزید وسیع، خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے بنیادی ڈھانچے، دفاعی تنصیبات یا دیگر اہم اہداف کو مزید نشانہ بنایا تو ایران ایسے ممالک میں موجود امریکی کمپنیوں اور مفادات کے خلاف کارروائی پر غور کر سکتا ہے جو اپنی سرزمین امریکی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی، عالمی توانائی کی ترسیل، بحری تجارت اور علاقائی استحکام پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی برادری مسلسل دونوں فریقوں سے تحمل، مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہے۔







