صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط کرتے ہوئے محکمہ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے فی الحال روک دیے جائیں۔

دوسری جانب الجزیرہ کے نمائندے محمد ول کے مطابق ایران ممکنہ طور پر کشیدگی میں کمی کی جانب جا سکتا ہے، کیونکہ تہران پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ یہ جنگ اس پر مسلط کی گئی ہے اور وہ اسے طول نہیں دینا چاہتا۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی جارحیت کی ضمانت نہ دی جائے اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہو تو وہ کسی معاہدے سے انکار نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے چند روز قبل ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر ایرانی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے اور اسرائیل و خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا تھا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جب کہ کئی ایشیائی ممالک میں ایل پی جی کی قلت بھی سامنے آئی ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور یہ 1970 کی دہائی کے توانائی بحرانوں سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ ان تمام علاقوں میں بجلی کے نظام کو نشانہ بنائے گا جہاں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کی جاتی ہے، جب کہ امریکی مفادات سے جڑے صنعتی اور توانائی کے منصوبے بھی ہدف بن سکتے ہیں۔

ایرانی ڈیفنس کونسل نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنوبی ساحل یا جزیروں پر کسی بھی حملے کی صورت میں خلیجی سمندری راستوں کو بارودی سرنگوں کے ذریعے بند کر دیا جائے گا۔

الجزیرہ کے نمائندے اسامہ بن جاوید کے مطابق عید کی تعطیلات کے باوجود مختلف ممالک سفارتی سطح پر متحرک ہیں اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر وائٹ ہاؤس سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری امریکا کو یہ باور کرا رہی ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ایران کے حق میں ہے اور نہ ہی اسرائیل کے لیے بہتر ہوگا، جب کہ دونوں جانب سے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔