میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ ایڈولف ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں سے مختلف نہیں۔ ان کے بقول صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرستانہ فاشزم کا آلہ کار بنا دیتا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہٹلر سے تشبیہ دی اور کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دن بھی سیکڑوں لبنانی شہریوں کو قتل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل میں اسی طرح داخل ہو سکتا ہے جیسے وہ لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوا تھا۔

رجب طیب اردگان نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 72 ہزار افراد میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ شام میں ساڑھے 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران بھی سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہی ہوئے۔

ترک صدر کے مطابق دو مارچ کے بعد لبنان میں شہری آبادی پر اسرائیلی حملوں کے باعث 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ ان حملوں میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 4700 زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے دن بھی اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو بے دردی سے قتل کیا اور یہ کہ خون اور نفرت میں اندھی یہ کارروائیاں معصوم بچوں اور خواتین کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔