سر مارک ٹلی کئی دہائیوں تک برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستہ رہے اور ’’وائس آف انڈیا‘‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ وہ بھارت سے متعلق خبروں، تجزیوں اور زمینی حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے باعث عالمی سطح پر معتبر سمجھے جاتے تھے۔

مارک ٹلی نے بھارت کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تاریخ کے کئی اہم اور حساس ادوار کی رپورٹنگ کی۔ وہ 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر موقع پر موجود تھے اور اس واقعے کے عینی شاہد تھے۔ اس دوران انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث انہیں کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں محصور رہنا پڑا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کا نئی  برطانوی ایف بی آئی  پولیس سروس تشکیل دینے کا اعلان

سر مارک ٹلی نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانوی راج سے آزادی کے بعد بھارتی سیکولرازم کے لیے ’’سب سے بڑا دھچکا‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کی یہ رائے عالمی میڈیا میں بڑے پیمانے پر زیرِ بحث رہی اور بھارت کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے بھارت میں پیش آنے والے کئی بڑے سانحات اور تاریخی واقعات کی کوریج کی، جن میں قحط، فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت، بھوپال گیس سانحہ، اور امرتسر میں گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے آپریشن جیسے واقعات شامل ہیں۔ ان کی رپورٹنگ کو غیرجانبدار، جرات مندانہ اور حقائق پر مبنی قرار دیا جاتا تھا۔

صحافتی حلقوں کے مطابق سر مارک ٹلی ان چند مغربی صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے جنوبی ایشیا کو محض طاقت کے مراکز کے بجائے عام انسان کی نظر سے دیکھ کر رپورٹ کیا۔ ان کی تحریریں اور تجزیے آج بھی صحافت کے طلبہ کے لیے ایک مثال سمجھے جاتے ہیں۔

ان کے انتقال پر صحافی برادری، سیاسی شخصیات اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔