مظاہرین نے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت امیگریشن پالیسیوں، ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مؤقف اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر شدید تنقید کی۔ منتظمین کے مطابق امریکا بھر میں تین ہزار سے زائد مقامات پر احتجاجی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ مضافاتی اور دیہی علاقوں میں بھی شرکت دیکھی گئی۔
یہ تحریک ایک سال سے بھی کم عرصے میں تیسرا بڑا احتجاج ہے۔ اس سے قبل جون میں ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر ملک گیر مظاہرے ہوئے تھے جبکہ اکتوبر میں ہونے والے احتجاج میں بھی لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔
نیویارک میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی جس میں معروف اداکار رابرٹ ڈی نیرو بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے ٹرمپ کو امریکی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ واشنگٹن میں بھی مظاہرین نیشنل مال پر جمع ہوئے جہاں حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے اور مختلف بینرز اٹھائے گئے۔
ایک مظاہرین نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ صدر مسلسل غلط بیانی کرتے ہیں اور اس کے خلاف مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
یہ مظاہرے امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک جانب ٹرمپ کے حامی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ نعرے کے تحت ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ناقدین ان پر اختیارات کے غلط استعمال، عدالتی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور ماحولیاتی مسائل کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بائیں بازو کے گروہوں کی منظم سرگرمی ہے جسے وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں۔ ریپبلکن رہنماؤں نے بھی انہیں انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی قرار دیا ہے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شامل افراد کی بڑی تعداد بڑے شہروں سے باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جو اس تحریک کے پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
یورپ کے مختلف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور روم سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا، جبکہ پیرس میں امریکی شہریوں، مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مشترکہ احتجاج کیا۔
روم اور لندن میں ہونے والے مظاہروں میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی اور دائیں بازو کی سیاست کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
’نو کنگز‘ تحریک کو جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد ان کے خلاف ایک نمایاں عوامی مزاحمتی مہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر امریکا میں ہونے والے آئندہ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ صدر کی مقبولیت میں کمی کے باعث حکمران جماعت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔







