ماشاڈو کا کہنا ہے کہ مادورو ایک غیر قانونی صدر ہیں، اور وہ امریکی اقدامات کو وینزویلا کے عوام کی خواہشات کے نفاذ کے طور پر دیکھتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال کیریبیئن میں بحری بیڑا تعینات کیا تھا، جبکہ ستمبر سے امریکی فورسز وینزویلا کے ساحل کے قریب مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

واشنگٹن کی جانب سے مادورو پر منشیات کے کارٹیلز سے تعلقات کا الزام لگایا گیا ہے اور انہیں ’نارکو ٹیررسٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔

ماریا کورینا ماشاڈو نے بلومبرگ کے ایک پروگرام میں کہا کہ امریکی فوجی دباؤ ہی مادورو کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی کو بھی جائز سمجھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے کارکنان اور فوجی و پولیس افسران اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، اور ان کے مطابق 80 فیصد سے زائد فورسز اس عمل میں شامل ہوں گی۔

دوسری جانب مادورو نے امریکی الزامات اور اپوزیشن کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن پر وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بغاوت کی کوشش کا الزام لگایا ہے، ساتھ ہی انہوں نے روس، چین اور ایران سے فوجی مدد طلب کی ہے۔

روس نے بھی امریکی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور وینزویلا کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کاراکس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔