ناروے کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نوبیل انعامات کا ناروے کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی کی جانب سے دیے جاتے ہیں۔
یوناس گاہر اسٹور کے مطابق انہیں ہفتے کے اختتام پر صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک ٹیکسٹ پیغام موصول ہوا، جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود نوبیل امن انعام حاصل نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس پیغام کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ نوبیل امن انعام ناروے کی حکومت نہیں دیتی بلکہ یہ ایک آزاد کمیٹی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
ناروے کے وزیراعظم نے کہا کہ یہ رابطہ اس وقت ہوا جب انہوں نے فن لینڈ کے صدر کے ساتھ مل کر یورپی ممالک پر ممکنہ امریکی ٹیرف میں اضافے کے خلاف صدر ٹرمپ کو پیغام بھیجا تھا۔
اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ چونکہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا، اس لیے وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل نہ ہو۔
انہوں نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں پہلے وہاں صرف ایک کشتی لنگر انداز ہوئی تھی، جبکہ امریکا کی کشتیاں بھی وہاں پہنچ چکی تھیں۔
ناروے کے وزیراعظم نے ایک بار پھر زور دیا کہ نوبیل امن انعام حکومت کے اختیار میں نہیں اور نہ ہی حکومت اس کے فیصلوں میں کوئی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کے بیان نے یورپی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری اینا کیلی نے ٹرمپ کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم خطہ سمجھتے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کے بیان کو غیر معمولی اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ بیانات امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔







