امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق کی جانب سے نوری المالکی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانا ایک انتہائی غلط فیصلہ ہوگا، جس کے نتائج ملک کو بھگتنا پڑیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا سیاسی، معاشی یا سکیورٹی سطح پر عراق کا ساتھ نہیں دے گا۔

انہوں  نے اپنے بیان میں کہا کہ نوری المالکی کے گزشتہ دورِ حکومت میں عراق غربت، بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رہا، فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا، سیاسی تقسیم گہری ہوئی اور ملک میں امن و ترقی کا عمل شدید متاثر ہوا۔

ان  کا کہنا تھا کہ امریکی تعاون کے بغیر عراق کی کامیابی، خوشحالی اور آزادی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے نہ کہ ماضی کی ناکام قیادت کی طرف واپس جانا چاہیے، ایسے رہنما جو ملک کو عدم استحکام کی طرف لے گئے، انہیں دوبارہ موقع دینا عراق کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عراق میں شیعہ سیاسی اتحاد نے نوری المالکی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا، جس کے بعد ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

نوری المالکی اس سے قبل 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا، سیاسی مخالفین کے ساتھ کشیدگی بڑھی اور امریکا کے ساتھ تعلقات بھی تناؤ کا شکار رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان عراق کی داخلی سیاست پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا یہ سخت پیغام خطے میں سفارتی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔