ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں کرسمس کی خصوصی عبادت سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ جنگوں نے دنیا بھر میں ملبہ اور کھلے زخم چھوڑ دیے ہیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ بے گناہ شہری اٹھا رہے ہیں۔ سینٹ پیٹرز اسکوائر میں موجود تقریباً 26 ہزار افراد سے خطاب میں وہ جذباتی انداز میں گویا ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کے اُن پناہ گزین خیموں کو کیسے بھول سکتے ہیں جو ہفتوں سے بارش، تیز ہواؤں اور سخت سردی کا مقابلہ کر رہے ہیں؟

پوپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں حالیہ شدید بارشوں نے پہلے سے تباہ حال علاقے میں مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

 اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور 13 لاکھ سے زائد افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے۔ درجہ حرارت میں کمی اور سردی کی شدت نے پناہ گزین کیمپوں میں موجود بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔

اپنے خطاب میں پوپ لیو چہاردہم نے یورپ میں ضرورت مند افراد اور مہاجرین کے لیے یکجہتی اور قبولیت کی اپیل بھی کی۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب یورپی ممالک میں مہاجر مخالف رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پوپ نے اپنے پیغام میں روس اور یوکرین کو تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات کرنے کی ہمت دکھانے کی بھی درخواست کی۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین بین الاقوامی برادری کے تعاون سے خلوص، احترام اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔

 یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے حکام نے حالیہ ہفتوں میں امریکی ثالثوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ جنگ کے ممکنہ خاتمے کے راستے تلاش کیے جا سکیں۔

گزشتہ ماہ پوپ لیو چہاردہم نے ویٹیکن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات میں غزہ کے لیے فوری انسانی امداد اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا تھا۔

واضح رہے کہ شگاگو سے تعلق رکھنے والے پوپ لیو چہاردہم کا اصل نام رابرٹ پریوسٹ ہے، جو مئی 2025 میں کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی پوپ منتخب ہوئے۔