چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے وینیزویلا میں کارروائی کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوبی امریکا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے چین نے روس اور ایران کے ساتھ صف آرا ہو کر مادورو کے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جنھوں نے پہلے ہی امریکی کارروائی کو مسترد کیا تھا۔
دوسری جانب امید کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز اس حملے پر اجلاس منعقد کرے گی، جس نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے متضاد ردعمل کو جنم دیا ہے۔
China called on the United States to release Venezuelan President Nicolás Maduro and his wife at once, said a Chinese foreign ministry spokesperson on Sunday. Read update: https://t.co/yw4PkN5dFu pic.twitter.com/UVd8XEYf6a
— China Xinhua News (@XHNews) January 4, 2026
یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتہ کی شام امریکا کے ایک فوجی اڈے پر منتقل کیا گیا، جہاں سےانہیں نیویارک لے جایا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کے طیارے سے اترتے ہی ایف بی آئی کے اہلکاروں نے مادورو کو تحویل میں لے لیا، جس کے بعد انہیں امریکہ کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا۔
بعد ازاں مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن پہنچایا گیا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 63 سالہ رہنما کو پہلے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے دفاتر لے جایا گیا اور پھر بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز منتقل کیا گیا، جو ایک وفاقی حراستی سہولت ہے۔
مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں کسی نامعلوم تاریخ پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر نارکوٹیررازم، امریکہ میں بڑی مقدار میں کوکین اسمگل کرنے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔






