چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے وینیزویلا میں کارروائی کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوبی امریکا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے چین نے روس اور ایران کے ساتھ صف آرا ہو کر مادورو کے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جنھوں نے پہلے ہی امریکی کارروائی کو مسترد کیا تھا۔

دوسری جانب امید کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز اس حملے پر اجلاس منعقد کرے گی، جس نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے متضاد ردعمل کو جنم دیا ہے۔

یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتہ کی شام امریکا کے ایک فوجی اڈے پر منتقل کیا گیا، جہاں سےانہیں نیویارک لے جایا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کے طیارے سے اترتے ہی ایف بی آئی کے اہلکاروں نے مادورو کو تحویل میں لے لیا، جس کے بعد انہیں امریکہ کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا۔

بعد ازاں مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن پہنچایا گیا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 63 سالہ رہنما کو پہلے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے دفاتر لے جایا گیا اور پھر بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز منتقل کیا گیا، جو ایک وفاقی حراستی سہولت ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں کسی نامعلوم تاریخ پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر نارکوٹیررازم، امریکہ میں بڑی مقدار میں کوکین اسمگل کرنے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔