نجی نشریاتی ادارے کے مطابق غیر جماعتی بنیادوں پر انتخاب لڑنے والے مصعب علی کا مقابلہ کرسٹینا فریمین، کالکی جائنی روز، جم مک گریوی، بل او ڈیا، جیمز سولومون اور جوائس واٹرمین سے تھا۔ مصعب نے 10 ہزار 843 ووٹ حاصل کیے، جب کہ جیمز سولومون نے 17 ہزار 200 ووٹ لے کر پہلی اور سابق گورنر جم مک گریوی نے 15 ہزار 42ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اب جیمز سولومون اور جم مک گریوی کے درمیان رن آف الیکشن ہوگا۔
مصعب علی 1997 میں لاہور میں پیدا ہوئے اور سن 2000 میں اپنے والدین کے ساتھ جرسی سٹی منتقل ہوگئے۔ امریکا پہنچنے کے صرف ایک سال بعد ہی ان کے والد کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا، جب کہ ان کی والدہ کو حجاب پہننے پر تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ 11 ستمبر کے بعد کے حالات نے انہیں انسانی حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے پر آمادہ کیا۔
ان کے والد پوسٹل ورکر اور والدہ ایجوکیٹر رہیں، دونوں ہی یونین ورکرز تھے۔ مصعب نے پبلک اسکول سے تعلیم حاصل کی، چین سے ماسٹرز اور ہارورڈ لا اسکول سے جوریس ڈاکٹر (Juris Doctor) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ باڈی کے شریک صدر بھی رہے۔
مصعب کے سیاسی سفر کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے بعد ہوا، جب انہوں نے مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔ نومبر 2016 میں انہوں نے جرسی سٹی اسکول بورڈ کے انتخابات میں حصہ لیا۔ اگرچہ پہلا الیکشن ہار گئے، مگر 2017 میں صرف 68 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کرکے جرسی سٹی کی تاریخ کے کم عمر ترین منتخب افسر بن گئے۔
اس وقت ان کی عمر محض 20 سال تھی اور وہ امریکی تاریخ کے کم عمر ترین مسلم عہدیدار قرار پائے۔ 2018 میں دوبارہ منتخب ہونے پر انہیں 23 ہزار ووٹ ملے، جب کہ 2021 میں وہ بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔
اپنے دورِ صدارت میں مصعب نے اساتذہ کی تنخواہیں بڑھانے، کم از کم اجرت 17 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرانے، کم از کم سالانہ تنخواہ 61 ہزار ڈالر طے کرنے اور طلبہ کے مشوروں کو بجٹ سازی میں لازمی شامل کرنے جیسے کئی نمایاں اصلاحاتی اقدامات کیے۔
انہوں نے اسٹوڈنٹ لنچ قرضہ ختم کرنے اور اسکولوں کی بہتری کے لیے شفاف پالیسیوں کی وکالت بھی کی۔ مصعب کی زندگی ہمت، حوصلے اور استقامت کی مثال ہے۔
Andrew Cuomo in New York wasn’t the only controversial former state governor trying for a political comeback tonight in a mayoralty run. In New Jersey, former governor (2002-2004) Jim McGreevey looks to be falling short in Jersey City. pic.twitter.com/d1VyiY02o0
— Bob Pickard (@BobPickard) November 5, 2025
ہارورڈ میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے انہیں ہاجکنز لمفوما (اسٹیج 4 کینسر) کی تشخیص ہوئی، لیکن انہوں نے 12 مراحل کی کیموتھراپی کے دوران بھی بورڈ کی صدارت کے فرائض انجام دیے اور آخرکار کینسر کو شکست دی۔
اگرچہ وہ جرسی سٹی کے میئر کا الیکشن نہیں جیت سکے، لیکن اپنی شفاف سیاست، سماجی خدمت اور جذبۂ قیادت سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ مستقبل میں امریکی سیاست میں ایک مزید مضبوط، متحرک اور بااثر کردار کے طور پر دوبارہ سامنے آئیں گے۔







