اُن کی مخالف پارٹی نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دستبردار ہو کر کوومو کی حمایت کریں، مگر سلیوا نےاس سے صاف انکار کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ الیکشن سے دستبردار ہو جائیں تو کوومو کے لیے ظہران ممدانی کو شکست دینا آسان ہو سکتا ہے، جو اس وقت ڈیموکریٹک سوشلسٹ پلیٹ فارم پر سب سے آگے ہیں۔
انتخابی مباحثے کے دوران سلیوا اپنے مخالفین پر خوب برسے،انہوں نے کہا کہ ظہران، تمہارا ریزیومے کاک ٹیل نیپکن پر سما سکتا ہےاور اینڈریو، تمہاری ناکامیاں نیویارک کے اسکول کی لائبریری بھر سکتی ہیں۔
سلیوا نے مباحثے میں اسلاموفوبک بیانیہ بھی اپنایا اور جھوٹا دعویٰ کیا کہ ممدانی عالمی جہاد کے حامی ہیں۔
انہیں ایسے الزامات لگانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا۔
کرٹس سلیوا 1979 میں اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچے، جب انہوں نے گارڈین اینجلس کے نام سے ایک رضاکار گروپ قائم کیا، جو نیو یارک کے سب وے سسٹم میں گشت اور عوامی تحفظ کے لیے مشہور ہوا۔
اس وقت وہ برونکس کے ایک میکڈونلڈز ریسٹورنٹ میں 24 سالہ نائٹ منیجر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ان کے حامی انہیں عوامی خدمت اور خود انحصاری کی علامت قرار دیتے ہیں، جب کہ ناقدین ان پر نسلی پروفائلنگ اور خطرناک چوکسی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سلیوا نے خود تسلیم کیا تھا کہ 1992 میں انہوں نے میڈیا تشہیر کے لیے بعض جرائم گھڑے تھے۔
ان کے بقول، شہر کو جرائم، لاقانونیت اور ناکام قیادت کے بحران کا سامنا ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ کامیابی کی صورت میں وہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں سات ہزار نئی بھرتیاں کریں گے۔
تاہم، مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسیاں ماضی میں نسلی امتیاز اور اقلیتی برادریوں کی حد سے زیادہ نگرانی کا سبب بن چکی ہیں۔
ان کے منشور میں سستی رہائش، عوامی سہولیات اور جانوروں کے تحفظ جیسے نکات بھی شامل ہیں۔
سلیوا خود بلیوں کے دلدادہ ہیں اور اس پہلو نے انہیں نیویارک کے میڈیا میں منفرد پہچان دی ہے۔
یاد رہے کہ نیو یارک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 47 لاکھ ہے، جن میں صرف 11 فیصد ریپبلکنز ہیں، اور یہی وہ ووٹ بینک ہے جس پر سلیوا انحصار کر رہے ہیں۔
تازہ ترین سروے کے مطابق ظہران ممدانی کو 43 فیصد، اینڈریو کوومو کو 33 فیصداور سلیوا کو صرف 14 فیصد حمایت حاصل ہے۔
سیاسی ماہرین کے نزدیک ان کے جیتنے کے امکانات کم ہیں، مگر ان کی موجودگی انتخابی توازن کو ضرور بدل سکتی ہے۔
کرٹس سلیوا، جنہیں کبھی نیو یارک کے عوامی ہیرو کے طور پر جانا جاتا تھا، آج اسی شہر میں سیاسی قسمت آزما بن چکے ہیں۔
ان کے جیتنے کے امکانات کم سہی، مگر ان کی شخصیت، متنازعہ نظریات اور ہٹ دھرمی نے انہیں 2025 کے نیو یارک مئیر الیکشن کی سب سے دلچسپ شخصیت بنا دیا ہے۔







