فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کنگ چارلس اپنے سرکاری دورے کے دوران نائن الیون یادگاری تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ظہران ممدانی سے سوال کیا گیا کہ اگر انہیں بادشاہ سے علیحدہ ملاقات کا موقع ملا تو وہ کیا بات کریں گے، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی درخواست کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بنیادی توجہ دہشت گرد حملوں میں جان گنوانے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مرکوز رہے گی۔ بعد ازاں تقریب کے دوران دونوں شخصیات کے درمیان مختصر ملاقات بھی ہوئی، جس میں خوشگوار انداز میں مصافحہ اور مختصر گفتگو دیکھی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دوران کوہِ نور کے معاملے پر بات ہوئی یا نہیں۔

کوہِ نور ہیرا، جس کا وزن تقریباً 106 قیراط ہے، اس وقت لندن کے ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے اور برطانوی شاہی جواہرات کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ہیرا ماضی میں ملکہ الزبتھ دی کوئین مدر کے تاج میں بھی جڑا رہا ہے۔

اس قیمتی ہیرے کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور اس کی ملکیت ہمیشہ سے تنازع کا شکار رہی ہے۔ یہ مختلف ادوار میں مغل بادشاہوں، ایرانی حکمرانوں اور سکھ سلطنت کے پاس رہا، اور بالآخر 1849 میں برطانوی راج کے دوران ایک معاہدے کے تحت ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کر دیا گیا۔

کوہِ نور کی واپسی کا مطالبہ بھارت سمیت کئی ممالک کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیا جاتا رہا ہے، تاہم برطانیہ نے اب تک اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں دکھائی، یہ معاملہ صرف ایک ہیرے تک محدود نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور میں حاصل کیے گئے تاریخی اثاثوں کی واپسی کی ایک بڑی بحث کا حصہ ہے۔

دوسری جانب برطانیہ میں بعض سیاسی حلقوں نے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امیگریشن مخالف جماعت ریفارم یو کے سے وابستہ ایک رہنما نے اسے بادشاہ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوہِ نور برطانیہ میں ہی رہے گا اور اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایسے بیانات عالمی سفارت کاری اور تاریخی ورثے کے معاملات میں حساسیت پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ مستقبل میں اس مسئلے پر مزید سفارتی و قانونی بحث ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔