ممدانی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات مفید رہی اور وہ نیویارک میں مزید رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی کی طالبہ ایلمینا آغایوا کی آئس (امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی جانب سے حراست کے معاملے کو بھی اٹھایا،


 جس پر صدر ٹرمپ نے آگاہ کیا کہ طالبہ کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا کہ آغایوا کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ملاقات میں رہائشی بحران، مہنگائی اور قابلِ برداشت رہائش پر بھی بات ہوئی۔ ممدانی نے ٹرمپ کو نیویارک میں مزید رہائشی منصوبے بنانے کی تجاویز دیں، جسے سابق ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر ٹرمپ نے خوش آمدید کہا۔ صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل رہائشی اخراجات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

دونوں رہنماوں کے نظریات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، خصوصاً ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ممدانی نے آئس ایجنٹس کے استعمال اور ملک بدری کے مقدمات کی پالیسیوں پر تنقید کی اور وائٹ ہاؤس کو چار فلسطین حامی طلبا کی فہرست فراہم کی جو ملک بدری کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان طلبا میں محمود خلیل، یونسیو چنگ، محسن مہداوی، اور لقاع کردیہ شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے فلسطین حامی مظاہرین کو یہود دشمن قرار دیا، تاہم بعض یہودی گروپ نے کہا کہ امریکی صدر نے فلسطینی حقوق کی حمایت کو انتہا پسندی سے غلط طور پر جوڑا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ممدانی اور ٹرمپ کی یہ ملاقات خطے میں رہائشی بحران اور امیگریشن پالیسیوں کے بارے میں اہم اقدامات کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، تاہم دونوں رہنماوں کے نظریاتی اختلافات مستقبل میں کسی حد تک سیاسی کشیدگی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

نیویارک سٹی میئر کے دفتر نے کہا کہ ممدانی آئندہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے تاکہ طلبا کی حراست کے معاملات اور نیویارک میں رہائشی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔