نیپالی میڈیا کے مطابق مطابق اولی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکتوں کو روکنے میں ناکام رہے اور ممکنہ طور پر غفلت کے مرتکب ہوئے۔

کے پی شرما اولی کے وکیل نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا، جب کہ ان کی گرفتاری کے بعد حامیوں نے احتجاج شروع کر دیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپر سے سیاست دان بننے والے بلیندر شاہ نے جمعہ کے روز وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایاہے۔

اس سے قبل مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی تحقیقات کرنے والے ایک پینل نے سفارش کی تھی کہ اولی کے خلاف غفلت کا مقدمہ چلایا جائے، جب کہ اولی کے سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع میں اضافے اور شفاف سیاست کے مطالبات کے لیے ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کریک ڈاؤن میں 76 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد اولی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

اولی کی جماعت، کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ لیننسٹ) نے گرفتاری کو ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور مزید احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ سوڈان گرونگ نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام انصاف کی شروعات ہے اور ملک اب ایک نئی سمت کی جانب گامزن ہوگا۔

یاد رہے کہ کے پی شرما اولی 2015 سے 2025 کے درمیان چار مرتبہ نیپال کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، تاہم وہ کبھی بھی اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کر سکے۔ 2020 میں انڈیا کے ساتھ متنازع سرحدی علاقے کو نیپال کے نقشے میں شامل کرنے کے فیصلے کے بعد ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا۔

تاہم حالیہ انتخابات میں انہیں اپنے آبائی حلقے میں بلیندر شاہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو 1990 میں کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی کے بعد ان کی دوسری بڑی انتخابی ناکامی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ستمبر کے مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں پر عوامی غصے نے بلیندر شاہ کی جماعت کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اولی کے وکیل تکارام بھٹارائی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل کی گرفتاری غیر ضروری اور غیر قانونی ہے، کیونکہ ان کے فرار ہونے یا تفتیش سے بچنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔