تفصیلات کے مطابق چین اور انڈیا کے درمیان واقع اس چھوٹے ہمالیائی ملک میں دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ 1990 کے بعد سے اب تک 32 مرتبہ حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ سیاسی بے یقینی کے باعث ملک کی زیادہ تر زرعی معیشت متاثر ہوئی، جب کہ لاکھوں افراد روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوئے۔

ملک کی تقریباً تین کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ یہ ووٹرز 275 رکنی قانون ساز اسمبلی کے ارکان کا انتخاب کریں گے، جن میں سے 165 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے، جب کہ 110 نشستیں تناسبی نمائندگی کے تحت تقسیم کی جائیں گی۔

گزشتہ سال کے احتجاج کے بعد دس لاکھ نئے ووٹرز، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، رجسٹر ہوئے ہیں۔ اس سے سیاسی اصلاحات، بہتر اجرتوں اور باقاعدہ روزگار کے مطالبات کو مزید تقویت ملی ہے۔

خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے 22 سالہ مصور بوباس پریار، جو دارالحکومت کٹھمنڈو میں کام کرتے ہیں، نے کہا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے آبائی ضلع گورکھا جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی قیادت کی ضرورت ہے جو لوگوں کو روزگار فراہم کرے، زراعت میں اصلاحات کرے اور مزدوروں کو مناسب معاوضہ دے۔ ان کے مطابق پرانے سیاست دانوں نے بدعنوانی کے ذریعے دولت تو جمع کی، لیکن عوام کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔

انتخابات میں روایتی جماعتیں بھی میدان میں ہیں، جن میں نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) شامل ہیں، جو کئی دہائیوں سے قومی سیاست پر اثر انداز رہی ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق سینٹرسٹ جماعت راستریا سواتنترا پارٹی کو برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

35 سالہ ریپر سے سیاست دان بننے والے بلینڈرا شاہ، جو ستمبر کے احتجاج کا نمایاں چہرہ تھے، جنوری میں اپنی تین سالہ جماعت کی جانب سے وزیرِاعظم کے امیدوار نامزد کیے گئے۔ وہ چار بار کے سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کے مدمقابل ہیں، جنہوں نے ستمبر میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

یہ انتخابات جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد ہونے والا ایک اور اہم انتخاب ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس کی کچھ مماثلتیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، تاہم نیپال کے سیاسی حالات اور ممکنہ نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتخاب کے نتیجے کا دارومدار تین چیزوں پر ہوتا ہے، ایجنڈا، قیادت اور تنظیم  اور یہی عوامل نیپال کے انتخابات میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔