سیلابی ریلے کئی فٹ بلند پانی اور کیچڑ کے ساتھ آبادیوں میں داخل ہوئے، جس کے نتیجے میں 360 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 1300 سے زیادہ افراد لاپتہ ہوگئے۔ متاثرین میں غیر ملکی سیاحوں اور مذہبی زائرین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
سیلاب سے بچ جانے والے جانک بہادر نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تباہ کن ریلا انتہائی اچانک آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اچانک آیا اور ایک بم کی طرح پھٹ گیا۔ دریا بظاہر دور سے چھوٹا دکھائی دے رہا تھا لیکن اچانک اس کا پانی تیزی سے پھیلا اور آس پاس کے علاقوں میں داخل ہوگیا۔
تباہی کے بعد نیپالی فوج، ریسکیو ٹیمیں اور فوجی ہیلی کاپٹر لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق سیلاب سے درجنوں پل تباہ جبکہ تقریباً 40 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 100 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جب کہ متعدد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔
نواکوٹ سمیت متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتیں کیچڑ میں دب گئیں، گاڑیاں ملبے تلے آ گئیں جبکہ درختوں اور بجلی کی تاروں پر بھی ملبہ لٹکا دکھائی دیا۔ چین کے زیرانتظام تبت میں بھی سیلابی مٹی نے گیئرونگ پورٹ کے قریب عمارتوں اور سڑکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
چینی وزیراعظم لی چیانگ بھی متاثرہ علاقے پہنچ گئے ہیں، جہاں تقریباً 500 فوجی اور نیم فوجی اہلکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو آپریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ تباہ شدہ سڑکیں اور پل ہیں۔ ایک اور زندہ بچ جانے والے شخص نے کہا کہ ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور سب سے بڑی وجہ سڑکوں کا بند ہونا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہے کہ کتنے افراد اب بھی ملبے تلے دبے یا دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں ایسے علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ لاپتہ افراد میں 517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 178 انڈین، 60 سے زائد امریکی اور برطانیہ، یوکرین، جنوبی افریقہ اور جاپان سمیت تقریباً 30 ممالک کے شہری شامل ہیں۔
متعدد افراد ممکنہ طور پر تبت میں واقع مقدس مقام ماؤنٹ کیلاش کی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق نیپال اور چین میں 90 امریکی شہری تاحال لاپتہ ہیں جب کہ انڈیا نے اپنے 288 شہریوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ابتدائی طور پر اس تباہی کو زلزلے سے منسلک کیا گیا تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ یہ دراصل بڑے پیمانے پر گلیشیئر کے ٹوٹنے کا واقعہ تھا، جس کے نتیجے میں پانی اور ملبے کا انتہائی طاقتور ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات سے دوچار ہے۔
چین میں دریاؤں کے سنگم پر بننے والی نئی جھیل کے حوالے سے بھی حکام نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کے پھٹنے کی صورت میں مزید تباہی کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ نے متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی امداد کی مد میں 20 لاکھ ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ نیپال اور چین کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔







