انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اندر بھی بہت سے شہری اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ موجودہ قیادت نے ملک کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے،اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد اس وقت خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہی ہے اور کئی شہری اپنی راتیں پناہ گاہوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے،اگر فوری طور پر جنگی صورتحال کو قابو نہ کیا گیا تو یہ تنازع مزید پھیل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں،ترکیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور اس کے اثرات ہمیشہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے اسے کنٹرول کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3شرائط رکھ دیں
واضع رہے کہ ترکیہ کی قیادت کی جانب سے اسرائیلی حکومت پر اس طرح کی سخت تنقید خطے میں جاری سفارتی تناؤ کی عکاسی کرتی ہے،اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔







