امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے خود وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے، جو نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد جلد ہو سکتی ہے۔
یہ ملاقات فروری میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی، جب نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بھی تصدیق کی ہے کہ جمعہ کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں امریکا میں جلد ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کی 7 اور 8 جولائی کو ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے باعث آئندہ ہفتے ملاقات کا امکان کم ہے، جب کہ اس کے اگلے ہفتے ملاقات متوقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران، لبنان اور خطے کی صورتحال پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، کیونکہ ان کے خیال میں یہ حملے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے تھے۔
مزید پڑھیں: ہم اچھے لوگ ہیں اس لیے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے لیے ایران کو ایک ہفتے کی مہلت دی، ڈونلڈ ٹرمپ
ادھر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، تاہم دونوں فریقوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے باعث مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس دوران دونوں جانب سے کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوگی۔
یہ مجوزہ ملاقات ایسے وقت میں متوقع ہے جب اسرائیل میں اکتوبر کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔






