امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور سچ پوچھیں تو انہیں اس معاملے پر ہمارا بہت شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو اسرائیل دو گھنٹے بھی قائم نہ رہ پاتا۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری مذاکرات کے نئے مرحلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر پہلے بھی بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ پر اسرائیلی حملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ حملہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
فوکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ حملے کے بعد انہوں نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں پوچھا کہ آپ آخر کر کیا رہے ہیں؟
بعد ازاں امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے مطابق بیروت پر حملے کی وجہ سے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط کا عمل کئی گھنٹوں تک تاخیر کا شکار ہوا، تاہم معاہدہ پھر بھی اپنے راستے پر قائم رہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ صورتحال بہت خراب تھی، میں یقین نہیں کر سکا۔ ہم معاہدے پر دستخط کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ حزب اللہ نے پہلے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، اس کارروائی میں نہ کوئی ہلاک ہوا اور نہ ہی کوئی بڑا نقصان ہوا تھا۔
ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ ایسے میں نیتن یاہو کو حملہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ میں اس پر بہت ناراض تھا اور میں نے انہیں اپنی ناراضی سے آگاہ بھی کیا۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے بیان میں کہا کہ بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ امریکا ایک ایسے معاہدے کے قریب ہے جو لبنان سمیت پورے خطے میں امن کا باعث بن سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر بلا محصول تجارتی گزرگاہ بنا دے گا، تاہم اخبار نے نشاندہی کی کہ دستیاب مسودے کے مطابق یہ سہولت ابتدائی طور پر صرف 60 روز کے لیے ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہاں تک کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ کا ’نگہبان‘ بن سکتا ہے اور اس کے بدلے خطے کی آمدنی میں حصہ حاصل کر سکتا ہے۔
جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حتمی معاہدے کے تحت ایران کو صرف اتنی سطح تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی جو کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔
⛔️Trump said, "Netanyahu has no f*cking judgement! I passed that message on to him, I am very unhappy with the attack in Beirut" — Axios
— Dr.Sam Youssef Ph.D.,Ph.D.,DPT. (@drhossamsamy65) June 14, 2026
"Why did Bib have to do a f*cking attack? I was so pissed off. I let him know. He has no f*cking judgement!"
⛔️Trump told Fox he told…
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی جیسی ہوگی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ نیا معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران ہمیشہ صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی حکومت حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتی ہے تو اسے مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی، حالانکہ یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا فریق نہیں ہے۔
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔






