تفصیلات کے مطابق عبرانی میڈیا رپورٹس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو ارسال کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ دستاویز وزیرِ انصاف کی ہدایت پر وزیرِ ثقافت و ورثہ کو بھی فراہم کی گئی ہے، جو صدارتی دفتر تک باضابطہ کارروائی مکمل کریں گے۔
בהרב־מיארה צפויה להעביר בקרוב למחלקת החנינות את התנגדותה לחנינת נתניהו https://t.co/7cz3vmsktw
— Haaretz הארץ (@Haaretz) March 10, 2026
وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے دائر کی گئی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی، اس لیے انہیں معافی دینا مشکل ہوگا۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے اور انہیں ابھی تک کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو کسی جرم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، جو قبل از وقت معافی کے لیے ایک اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔
اسرائیل کی ہائی کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کسی شخص کو سزا سنائے جانے سے پہلے بھی معافی دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار اپنے جرم کا اعتراف کرے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم صدر اسحاق ہرزوگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔
Israel s Pardons Department delivers position on Netanyahu s request: Does not meet threshold requirements
— CGTN Africa (@cgtnafrica) March 11, 2026
واضح رہے کہ سب سے پہلے 2019 میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس کے بعد 2020 میں تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف باقاعدہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔
گزشتہ پانچ برس کے دوران ہونے والی مختلف سماعتوں میں متعدد شواہد بھی پیش کیے گئے، تاہم نیتن یاہو ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
بعد ازاں 2025 میں نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری کرپشن مقدمات کے دوران صدارتی معافی کی درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست پر ملک بھر میں مختلف آرا سامنے آئی تھیں، تاہم اب وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے معافی کی سفارش نہ کرنے کی قانونی رائے تیار کر لی ہے، جب کہ حتمی فیصلہ صدر اسحاق ہرزوگ کریں گے۔






