ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ ایجنسی کے مطابق، اسرائیل کے یرغمالیوں اور لاپتا افراد کے کوآرڈینیٹر گل ہیرش نے کہا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک ایسے بل کی حمایت کی ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔
یہ بل دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جیوش پاور پارٹی نے پیش کیا ہے، جس کی قیادت وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کر رہے ہیں۔ بل کو بدھ کے روز کنیسٹ میں پہلی بار منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کو سزائے موت دی جائے گی جو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کسی اسرائیلی شہری کو نسلی تعصب، نفرت یا ریاستِ اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے ہلاک کردے۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں کوئی بھی بل قانون بننے کے لیے پارلیمان سے تین مراحل میں منظور کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق، گل ہیرش نے پیر کے روز کنیسٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے اب اس بل کی حمایت کر دی ہے۔
گل ہیرش نے کہا کہ وہ ماضی میں اس بل کے مخالف تھے، کیونکہ یہ غزہ میں موجود زندہ یرغمالیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یرغمالی زندہ ہیں، اس لیے میری مخالفت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔
اسی روز، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے بھی ایک بیان میں تصدیق کی کہ جیوش پاور پارٹی کی درخواست پر بل کو پہلے مرحلے میں پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں حماس نے ایک عارضی جنگ بندی معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس وقت دس ہزار سے زائد فلسطینی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، یہ قیدی تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا شکار ہیں، جب کہ متعدد قیدی حراست کے دوران جاں بحق ہو چکے ہیں۔
حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایتمار بن گویر نے جیلوں کے حالات مزید خراب کر دیے ہیں ۔قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقاتوں پر پابندی، خوراک میں کمی، اور نہانے کی سہولت محدود کر دی گئی ہے۔







