امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں، مجھے ان کی معلومات کی ضرورت نہیں۔ نیتن یاہو ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات مجھے نہیں، دنیا کو بتائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں جنگ میں شامل رہوں، اسی لیے معلومات دینے کی بات کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی جوہری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور انہیں معلوم ہے کہ کوہ کولانگ کے مقام پر کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، ہم ایران کے جوہری مقامات کو تباہ کر چکے ہیں، اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ہم کوہ کولانگ کو بھی آسانی سے تباہ کر دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، بحریہ تباہ ہو چکی ہے اور فوج کی حالت بھی انتہائی کمزور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایران کو معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران میں مشن مکمل کریں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی جانب جانے والا ایک بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہیں کر سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد اس کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی۔

مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ بات چیت صرف ایران کے جوہری پروگرام پر ہو رہی ہے، تاہم ایران بار بار اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ امریکی صدر نہ ہوتے تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آج وائٹ ہاؤس میں ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق اطلاعات ہیں کہ نیتن یاہو اس ملاقات کے دوران ٹرمپ کو ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔