صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی تھی تاکہ خلیج میں تجارتی جہاز محفوظ رہ سکیں، خاص طور پر اُس وقت جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور دیگر تجارتی جہاز شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ بیشتر نیٹو اتحادی ممالک ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے رہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن ضرورت کے وقت وہی ممالک ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ یہ اتحاد اکثر یک طرفہ ثابت ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید واضح کیا کہ حالیہ فوجی کامیابیوں کے بعد امریکا کو اب نیٹو یا دیگر اتحادیوں کی مدد کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور ریاست ہے اور اسے کسی ملک کی فوجی مدد کی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں امریکی افواج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ تقریباً ختم ہوچکی ہے، فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچا، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تباہ ہو چکے ہیں اور کئی اعلیٰ حکومتی رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔






