دو روزہ اجلاس میں رکن ممالک نے میری ٹائم سکیورٹی، ریاستوں کی خودمختاری، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور غزہ جنگ سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافِ رائے کے باعث اجلاس کسی متفقہ مؤقف تک نہ پہنچ سکا۔ ایران چاہتا تھا کہ برکس، امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کی کھل کر مذمت کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اداروں کی سیاست کاری کے خلاف مزاحمت کریں اور زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کریں، تاہم متحدہ عرب امارات سمیت بعض رکن ممالک نے اس نقطۂ نظر سے اختلاف کیا۔

اجلاس کے اختتام پر انڈیا، جو اس وقت برکس کی صدارت کر رہا ہے، نے مشترکہ اعلامیے کے بجائے صرف چیئرمین کا بیان جاری کیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق ایسا اقدام عموماً اُس وقت کیا جاتا ہے جب رکن ممالک کسی متفقہ متن پر اتفاق نہ کر سکیں۔

انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ چیئرمین کے بیان میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مختلف آرا پائی گئیں۔

مبصرین کے مطابق یہ اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توسیع شدہ برکس گروپ، جس میں اب ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں، کو سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب رکن ممالک مختلف علاقائی بحرانوں میں الگ الگ مؤقف رکھتے ہیں۔