امریکی اسٹاک مارکیٹس میں منگل کو تین ماہ کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کے منصوبے کے تحت یورپی ممالک کے لیے اضافی ٹیریف کی دھمکی اور عالمی سرمایہ کاری میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔
مارکیٹ کے تین اہم اشاریے — ڈاؤ جونز، ایس این پی 500 اور نیسڈک — منگل کو نمایاں کمی کا شکار ہوئے۔ ایس این پی 500 میں 2.06 فیصد، نیسڈک میں 2.39 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 1.76 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایس این پی اور نیسڈک اپنے 50 روزہ اوسط سے نیچے آگئے۔
ماہرین کے مطابق یہ مارکیٹ کی گراوٹ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد پیدا ہوئی، جس میں انہوں نے یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیریف لگانے کی دھمکی دی، اور یکم جون سے اس شرح کو 25 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا۔
اس اعلان کے فوری اثرات سرمایہ کاروں پر واضح ہوئے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت ہوئی اور سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اسی دوران امریکی ٹریژریز پر بھی دباؤ بڑھا، جبکہ بِٹ کوائن میں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔ تجارتی حجم میں بھی اضافہ ہوا اور تقریبا 20.6 بلین شیئرز کا لین دین ہوا، جو پچھلے 20 دنوں کی اوسط 17.01 بلین سے زیادہ ہے۔
عالمی مارکیٹس پر بھی اثر پڑا، خاص طور پر جاپان کے بانڈ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے یورپی اور امریکی بانڈز کی قیمتوں میں کمی اور سود کی شرحوں میں اضافہ کر دیا۔ سرمایہ کار اب محتاط ہو گئے ہیں اور مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کامتبادل نہیں، عالمی امن کے لیے معاون فورم ہوگا: صدر ٹرمپ
تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں اور آئندہ اقتصادی اعداد و شمار اور کمپنیوں کی آمدنی کے نتائج سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ بین الاقوامی ٹیریف کے خدشات عالمی مالیاتی مارکیٹ میں فوری اور بعض اوقات غیر متوقع ردعمل پیدا کر سکتے ہیں، اور سرمایہ کاروں کو ہر حال میں محتاط اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان عالمی تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے رویے پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر جب مارکیٹس پہلے ہی کورونا کے بعد کے عالمی معاشی دباؤ اور چین-امریکا تجارتی کشیدگی کے زیرِ اثر ہیں۔







