خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی رات اس وقت پیش آیا جب میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں عشائیہ جاری تھا۔ صدر اسٹیج پر موجود تھے کہ ایک اہلکار انہیں پرچی دے کر آیا، اسی دوران آوازیں سنائی دیں اور سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں باہر منتقل کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے فائرنگ کی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فاکس نیوز کے مطابق ملزم کی شناخت کول تھامس ایلین کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر اکتیس برس بتائی گئی ہے۔ ایف بی آئی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

تقریب میں موجود افراد کے مطابق فائرنگ کے بعد لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے ہال کو گھیرے میں لے لیا۔ عمارت کے اطراف ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں اور تقریب کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا۔ اس موقع پر نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں فائرنگ کی خبر پر گہرا صدمہ ہوا تاہم صدر اور دیگر شرکا کے محفوظ ہونے پر اطمینان ہے۔

بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے خیال میں اس واقعے کا ایران سے متعلق کسی تنازع سے تعلق نہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے ایک اہلکار پر گولی چلائی مگر حفاظتی جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہا اور ملزم کو قابو کر لیا گیا۔ انہوں نے سکیورٹی کے فوری ردعمل کو سراہتے ہوئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔