ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں لنزے گراہم نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ مزید ممالک ابراہم معاہدے کا حصہ بنیں، سعودی عرب مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کرسکتا ہے اور 2026 اس حوالے سے ایک اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور حالیہ مذاکرات نے خطے میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں، اگر علاقائی تنازعات میں کمی آتی ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات آگے بڑھتے ہیں تو مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
لنزے گراہم نے ایران کے کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ایران کے ساتھ معاملات کا حل بھی اہمیت رکھتا ہے۔، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کسی جامع معاہدے تک رسائی ہو یا نہ ہو، خطے میں سفارتی عمل کو جاری رہنا چاہیے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جاسکے اور تعاون کے نئے دروازے کھل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ابراہم معاہدے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن، معاشی تعاون اور سفارتی روابط کو فروغ دینا ہے، اور اگر سعودی عرب اس عمل کا حصہ بنتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے، سعودی عرب کی شمولیت سے نہ صرف علاقائی سفارت کاری کو نئی سمت ملے گی بلکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
امریکی سینیٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے مہینوں میں خطے کے اہم ممالک کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوگا اور مختلف تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے گی، مشرقِ وسطیٰ کو درپیش چیلنجز کا حل مذاکرات، تعاون اور باہمی اعتماد کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ سیاسی و تکنیکی رابطوں کے فریم ورک پر اتفاق ہوگیا، امریکی سفارتکار
واضح رہے کہ لنزے گراہم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف علاقائی و عالمی قوتیں تنازعات کے پرامن حل کے لیے رابطوں میں مصروف ہیں، سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات سے متعلق کسی بھی بڑی پیش رفت کے خطے کی سیاست، سلامتی اور معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ابراہم معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کی بحالی اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام تصور کیا جاتا ہے، جس کے تحت کئی عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں، جبکہ مستقبل میں مزید ممالک کی شمولیت کے امکانات پر بھی بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔







