عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق وینزویلا کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ حملے صرف کراکاس تک محدود نہیں رہے بلکہ ریاستوں میرانڈا، آراگوا اور لا گوایرا میں بھی کارروائیاں ہوئیں، جس پر صدر مادورو نے قومی ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے دفاعی فورسز کو متحرک کر دیا۔

رائٹرز کے گواہوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً دو بجے سے ڈیڑھ گھنٹے تک شہر بھر میں دھماکوں، طیاروں کی پروازوں اور سیاہ دھویں کے مناظر دیکھے گئے۔ شہر کے مختلف حصوں میں شہریوں نے خوف اور صدمے کا اظہار کیا اور آسمان پر نارنجی روشنیوں اور دھویں کے مناظر کی ویڈیوز بنائیں۔

ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اوہ نہیں، وہ دیکھو! گواہوں کے مطابق شہر کے جنوبی حصے میں، جہاں ایک بڑا فوجی اڈہ واقع ہے، بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کی بات کر چکے ہیں۔ وینزویلا کے صدر مادورو 2013 سے اقتدار میں ہیں۔ امریکا، وینزویلا کی اپوزیشن اور متعدد دیگر ممالک کا الزام ہے کہ مادورو نے گزشتہ سال اقتدار میں رہنے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنے مقاصد کھل کر بیان نہیں کیے، تاہم رائٹرز کے مطابق وہ نجی طور پر مادورو پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا “دانشمندانہ” ہوگا۔

پینٹاگون نے سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دیے، تاہم وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد امریکہ کی جانب سے ملک کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔

امریکانے خطے میں نمایاں فوجی تیاری کر رکھی ہے، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی جہاز اور جدید لڑاکا طیارے شامل ہیں جو کیریبین میں تعینات ہیں۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا کے تیل پر “ناکابندی”، مادورو حکومت کے خلاف پابندیوں میں توسیع اور اُن بحری جہازوں پر درجنوں حملے کیے ہیں جن پر امریکہ کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کا الزام ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ایسے علاقے کو نشانہ بنایا جہاں منشیات سے لدی کشتیاں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ دباؤ کی مہم کے آغاز کے بعد وینزویلا میں امریکی زمینی کارروائی کی پہلی معلوم مثال تھی۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان حملوں میں سی آئی اے ملوث تھی یا نہیں، تاہم بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق خفیہ ایجنسی اس میں شامل تھی۔

صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر امریکا میں منشیات پھیلانے کا الزام لگایا ہے، جب کہ مادورو حکومت ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی آئی ہے۔ کئی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیرقانونی قرار دیا ہے۔