عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس اعلان سے حیران ہیں اور انہیں کسی جاری فوجی آپریشن کی اطلاع نہیں۔ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے بھی تاحال کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔
وینزویلا کی حکومت نے ٹرمپ کے بیان کو “نوآبادیاتی خطرہ اور دشمنانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا اعلان یکطرفہ، غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
کاراکاس نے کہا کہ امریکا لاطینی امریکا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے، جب کہ وینزویلا اپنی فضائی حدود اور خودمختاری کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکی فضائی دفاع کے سابق کمانڈر ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ وینزویلا پر نو فلائی زون نافذ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہوں گے۔ ٹرمپ کا اعلان سوالات زیادہ اور جوابات کم چھوڑتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی سمیت متعدد آپشنز پر غور کر رہا ہے، جب کہ سی آئی اے کو خفیہ کارروائیوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا بہت جلد زمینی کارروائیاں شروع کرے گا تاکہ مبینہ منشیات اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔ صدر نکولس مادورو ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکا انہیں ہٹانا چاہتا ہے۔
وینزویلا کے شہریوں نے ٹرمپ کے اعلان کو ناانصافی اور زندگی میں خلل قرار دیا۔ ایک شہری نے کہا کہ ہمیں کام، کاروبار اور خاندان سے ملنے کے لیے سفر کرنا ہوتا ہے۔ ہم قصوروار نہیں پھر سزا کیوں؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ تعطیلات کے دنوں میں فضائی پابندیاں بھی زندگی کو مفلوج کر دیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کی امریکا کو سخت وارننگ، غیرملکی دھمکیاں قبول نہیں، اپنی فضائی حدود کا دفاع کریں گے
ایران نے ٹرمپ کے اعلان کو خطرناک، غیر قانونی اور عالمی فضائی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ وینزویلا نے کہا کہ یہ اقدام ان تارکین وطن کی واپسی پر بھی اثر انداز ہو گا جو امریکی امیگریشن کریک ڈاؤن کے بعد چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے وطن واپس آ رہے تھے۔
امریکی کشیدگی کے بعد وینزویلا کے شمال مشرقی علاقوں میں سکیورٹی اداروں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نگرانی اور سرچ آپریشنز میں اضافہ ہوا ہے اور جی پی ایس سگنلز بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی ایف اے اے کی حالیہ وارننگ کے بعد وینزویلا نے چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کے آپریشنز معطل کر دیے تھے جنہوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث پروازیں روک دی تھیں۔







