عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بعدازاں کیوبا کے حکام نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ وینزویلا پر امریکی حملے اور صدارتی محل میں ہونے والے آپریشن کے دوران 32 کیوبائی شہری مارے گئے۔
دوسری جانب کیوبائی حکام نے وضاحت کی کہ ہلاک ہونے والے افراد فوجی نہیں بلکہ عام شہری تھے جو مادورو کے صدارتی کمپاؤنڈ میں موجود تھے۔
کیوبا کی وزارت خارجہ نے ان ہلاکتوں کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں بلاجواز تھیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران بہت سے، بہت سے کیوبائی مارے گئے، تاہم انہوں نے اس کارروائی کو شاندار ملٹری آپریشن بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے بیان سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ مارے جانے والے افراد ممکنہ طور پر مادورو کی سیکیورٹی پر مامور گارڈز یا محافظ ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صدارتی کمپاؤنڈ کے اندر موجود تھے۔
واضح رہے کہ تین جنوری کو امریکی اسپیشل فورسز نے وینزویلا کے صدارتی محل میں کارروائی کرتے ہوئے بیڈروم سے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔
امریکی اہلکار دونوں کو گھسیٹتے ہوئے بیڈروم سے کمپاؤنڈ تک لائے اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سمندر میں موجود بحری جہاز تک منتقل کیا، جو انہیں سیکیورٹی حصار میں امریکا لے گیا۔
"Its ultimate objective is not the false narrative of combatting drug trafficking but control over Venezuelas land & natural resources"
— Saul Staniforth (@SaulStaniforth) January 5, 2026
At the UN security council Cuba condemns the actions of the US as a criminal attack and notes that 32 Cubans were killed resisting US forces. pic.twitter.com/wyD2JMPx51
اگلے روز مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں صدر مادورو پر منشیات دہشت گردی، کوکین کی سپلائی اور امریکا کے خلاف سازش جیسے سنگین ال
زامات عائد کیے گئے۔
نکولس مادورو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے اور وہ اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔
ان کی اہلیہ نے بھی عدالت میں یہ مؤقف اپنایا کہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد وینزویلا کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔






