غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ماچاڈو کی ترجمان کلاڈیا میسیرو نے بتایا کہ نوبیل امن انعام کی تقریب میں شرکت کے لیے اوسلو پہنچنے کے دوران شدید لہروں سے متاثرہ کشتی کے سفر میں یہ چوٹ لگی، فریکچر کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم اس سے زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی جائیں گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 58 سالہ ماریا کورینا ماچاڈو ایک چھوٹی ماہی گیر کشتی میں سفر کر رہی تھیں، جسے سمندر میں بلند لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں اوسلو یونیورسٹی اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ماچاڈو کا یہ سفر انتہائی خفیہ اور خطرناک تھا، جس میں انہوں نے بھیس بدل کر وینزویلا کے ایک ساحلی گاؤں سے کیوراساؤ تک کشتی میں سفر کیا، پھر نجی طیارے کے ذریعے ناروے پہنچنے کی کوشش کی۔

ماچاڈو نے کہا کہ انہیں سفر کے دوران اپنی جان کا شدید خطرہ محسوس ہوا، حتیٰ کہ امریکی افواج کو بھی کشتی پر کسی ممکنہ حملے سے بچاؤ کے لیے الرٹ کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ماریا کورینا ماچاڈو کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد وہ جان کو لاحق خطرات کے باعث روپوش ہوگئیں۔

اکتوبر میں نوبیل کمیٹی نے انہیں جمہوریت کے لیے جدوجہد اور اپوزیشن تحریک میں کردار کے اعتراف میں نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ وقت پر تقریب میں نہ پہنچ سکیں اور ان کی بیٹی نے ان کی جانب سے انعام وصول کیا۔

لازمی پڑھیں: بونڈائی بیچ حملے میں ملوث ملزمان آئی ایس آئی ایل سے متاثر تھے، آسٹریلوی پولیس

تقریب کے چند گھنٹے بعد ماچاڈو پہلی بار ایک سال کے وقفے کے بعد عوام کے سامنے آئیں اور اوسلو کے ایک ہوٹل کی بالکونی سے حامیوں سے خطاب کیا، حالانکہ وہ زخمی تھیں۔

دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ماچاڈو کی چوٹ سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے طنزیہ ردعمل دیا اور کہا کہ ان کی ریڑھ نہیں بلکہ سوچ اور روح ٹوٹ چکی ہے۔