عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عبوری صدر روڈریگیز نے اپنی حفاظت وینزویلا کے مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے سپرد کر دی ہے، برخلاف سابق صدر نیکولس میڈورو اور مرحوم صدر ہوگو چاویز کے، جنہیں اپنی حفاظت کے لیے خصوصی کیوبن دستے درکار تھے۔

کیوبا نے تصدیق کی ہے کہ 3 جنوری کو امریکی فوجی کارروائی کے دوران 32 کیوبن اہلکار ہلاک ہوئے، جو میڈورو کی گرفتاری کے وقت موجود تھے۔

یہ فوجی اور سکیورٹی اہلکار وینزویلا اور کیوبا کے درمیان دیرینہ سکیورٹی معاہدے کا حصہ تھے، جس کے تحت کیوبن انٹیلی جنس ایجنٹس وینزویلا کی فوج اور مضبوط ڈی جی سی آئی ایم یونٹ میں شامل تھے تاکہ اندرونی مخالفت کو ختم کیا جا سکے۔

نیو یارک یونیورسٹی کے تاریخ دان الیجینڈرو ویلاسکو کے مطابق کیوبن اثر و رسوخ چاوِیزما حکومت کے بقاء کے لیے انتہائی ضروری تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی سی آئی ایم میں بعض کیوبن مشیران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جب کہ کچھ کیوبن ڈاکٹروں اور سکیورٹی مشیروں نے حالیہ ہفتوں میں کیوبا کا رخ کیا۔ ایک ذریعہ کا کہنا تھا کہ روڈریگیز نے امریکی دباؤ کے تحت یہ اقدامات کیے۔

میڈورو کو ہٹانے کی کارروائی سے قبل، ہزاروں کیوبن ڈاکٹروں، نرسوں اور کوچز نے وینزویلا میں عوامی پروگراموں میں کام کیا۔ بدلے میں وینزویلا نے کیوبا کو تیل فراہم کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ وینزویلا اور کیوبا کے سکیورٹی تعلقات ختم کریں گے۔

واشنگٹن کی حکمت عملی کا حصہ یہ بھی ہے کہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو کمزور کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وینزویلا سے کیوبا کو تیل کی سپلائی کو روک دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل پورا مشرقِ وسطیٰ حاصل کرلے تو اعتراض نہیں ہوگا، امریکی سفیر مائیک ہکابی

ذرائع کے مطابق بعض زخمی کیوبن اہلکار واپس کیوبا چلے گئے، جب کہ کچھ اب بھی وینزویلا میں فعال ہیں۔ کیوبن پروفیسر اب بھی وینزویلا کی ریاستی یونیورسٹی UNES میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کو تعلیم دے رہے ہیں۔

سابق امریکی سفارت کار فرینک مورا کے مطابق روڈریگیز بہت محتاط انداز سے قدم بڑھا رہی ہیں۔ وہ کیوبن مشیروں کو فاصلے پر رکھنا چاہتی ہیں تاکہ صورتحال مستحکم ہو، لیکن انہیں مکمل طور پر چھوڑنا بھی نہیں چاہتیں۔

ماہرین کے مطابق کیوبن مداخلت کا اثر اب بھی موجود ہے۔ امریکی نیول اکیڈمی کے پروفیسر جان پولگا-ہیسیمووچ نے کہا کہ کیوبن مشیروں نے میڈورو کی حفاظت نہیں کی، لیکن چاوِیزما حکومت کو قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انٹیلی جنس کا نظام شاندار طریقے سے کام کرتا رہا۔

اس پیش رفت کے بعد وینزویلا اور کیوبا کے تعلقات کی نوعیت، عبوری حکومت کے اقدامات اور امریکی دباؤ کی شدت پر خطے میں نگاہیں مرکوز ہیں۔