ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ہنگامے کہاں اور کیوں ہوئے؟ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کیریکاس کے مختلف حصوں میں متعدد دھماکوں کی جھلکیاں دیکھی گئی ہیں، تاہم رائٹرز ان ویڈیوز کی فوری تصدیق نہیں کر سکا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں زمین پر فوجی کارروائیوں کا بار بار وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مقاصد عوامی طور پر بیان نہیں کیے، لیکن ذرائع کے مطابق انہوں نے پرائیویٹ طور پر صدر نیکولس مادورو پر دباؤ ڈالا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔
امریکی صدر نے پیر کو کہا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑنا “عقلمندی” ہوگی۔ پینٹاگون نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکا نے کیریبین میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، جس میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر، جنگی جہاز اور جدید فائٹر جیٹس شامل ہیں۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر “بلاکڈ” نافذ کیا، پابندیاں بڑھائیں اور بحر پیسفک و کیریبین میں مفرور منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں دو درجن سے زائد جہازوں پر حملے کیے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ایسے علاقے پر حملہ کیا جہاں منشیات سے بھری کشتیوں کو لوڈ کیا جا رہا تھا، جو اس دباؤ مہم کے آغاز کے بعد امریکا کی طرف سے وینزویلا میں زمین پر پہلی کارروائی کے طور پر ریکارڈ کی گئی۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملے سی آئی اے کے ذریعے کیے گئے یا نہیں، تاہم دیگر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ جاسوسی ایجنسی اس کے پیچھے تھی۔
ٹرمپ نے وینزویلا پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ میں منشیات کی بھرمار کر رہا ہے، اور ان کی انتظامیہ نے کئی مہینوں سے جنوبی امریکہ سے آنے والی کشتیوں پر بمباری کی ہے، جن پر الزام تھا کہ وہ منشیات لے جا رہی تھیں۔ کئی ممالک نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور مادورو کی حکومت نے ہمیشہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔







