متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے، مرکزی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا اور حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا جس کا مرکز کاراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا۔ اس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا محسوس کیا گیا جس نے پہلے سے لرزتی عمارتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔
زلزلہ کب اور کیسے آیا؟
بدھ کی سہ پہر سرکاری تعطیل کے باعث لاکھوں شہری اپنے گھروں میں موجود تھے۔ معمولاتِ زندگی جاری تھے کہ اچانک زمین لرزنے لگی۔
عینی شاہدین کے مطابق ابتدائی چند سیکنڈ میں ہلکے جھٹکے محسوس ہوئے لیکن پھر صورتحال انتہائی خطرناک ہو گئی۔ کئی شہریوں نے بتایا کہ موبائل فون پر زلزلے کی وارننگ موصول ہونے کے فوراً بعد عمارتیں شدت سے ہلنا شروع ہو گئیں۔
کاراکاس کی ایک خاتون ملازمہ نے بتایا کہ انہیں فون پر زلزلے کی وارننگ ملی۔ ابھی وہ پیغام سن ہی رہی تھیں کہ چند لمحوں میں پورا کمرہ ہلنے لگا اور لوگ خوف کے عالم میں باہر کی جانب بھاگنے لگے۔
چند سیکنڈ میں شہر کا منظر بدل گیا
پہلے جھٹکے کے بعد لوگ ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ آ گیا۔
کاراکاس کے مختلف علاقوں میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی عمارتوں کے اگلے حصے گر گئے جب کہ بعض مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں۔
مغربی کاراکاس کی رہائشی ایسٹرڈ ریمیریز نے عالمی خبررساں اداروں کو بتایا کہ جیسے ہی زلزلہ شروع ہوا، ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ لوگ سیڑھیوں کی طرف دوڑ رہے تھے، ہر شخص جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
مشرقی کاراکاس کے رہائشی کورو مارٹنیز کے مطابق گھر کے اندر موجود سامان زمین پر گر گیا، الماریوں اور ریفریجریٹر میں رکھی اشیاء بکھر گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس شدت کا زلزلہ کبھی محسوس نہیں کیا۔
عمارتیں گریں، ہلاکتیں اور زخمی
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاراکاس کے مختلف اضلاع میں کئی عمارتیں منہدم ہوئیں۔ باروتا ضلع میں دو عمارتوں کے گرنے سے کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔
مشرقی کاراکاس کے ضلع چاکاؤ میں بھی متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں جہاں مقامی حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی۔
چاکاؤ کے میئر گسٹاوو ڈیوک کے مطابق کئی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جب کہ متعدد زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملبے تلے دبے افراد کی تلاش
شام ڈھلتے ہی امدادی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکار ٹوٹے ہوئے کنکریٹ اور لوہے کے ڈھانچوں کے درمیان زندہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔
متعدد خاندان تباہ شدہ عمارتوں کے باہر کھڑے اپنے عزیزوں کی خبر کے منتظر رہے۔ ایک رہائشی خاتون ماریہ الیجینڈرا نے بتایا کہ جب وہ عمارت سے نیچے اتریں تو منظر کسی ہارر فلم سے کم نہ تھا۔ ہر طرف ملبہ بکھرا ہوا تھا اور کئی لوگ ابھی تک اندر پھنسے ہوئے تھے۔
حکومت کا ہنگامی حالت کا اعلان
ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
قوم سے خطاب میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے امداد طلب کی جائے گی۔
وزارتِ داخلہ کے سربراہ ڈیوسڈاڈو کابیلو نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ پولیس، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور دیگر اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
زلزلے کے فوراً بعد کاراکاس کے بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ہسپتال ڈی کلینیکس سمیت متعدد طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو اضافی ڈیوٹیاں سونپی گئیں تاکہ زخمیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹا جا سکے۔
اسپتالوں کی بعض ویڈیوز میں چھتوں کے ٹوٹے ہوئے حصے اور دیواروں سے جھڑتا ہوا ملبہ بھی دیکھا گیا۔
طبی عملے کو خدشہ ہے کہ رات بھر مزید زخمی اسپتالوں میں منتقل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ کئی متاثرہ علاقوں تک ابھی مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بند
زلزلوں کے نتیجے میں ساحلی شہر مائیکیتیا میں واقع وینزویلا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کو بھی نقصان پہنچا۔
حکومت نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل کر دیں جبکہ ملک کے کئی حصوں میں تعلیمی ادارے بھی ہفتے کے اختتام تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سونامی وارننگ جاری، پھر واپس لے لی گئی
زلزلوں کے بعد امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے ابتدائی طور پر سونامی کا خطرہ ظاہر کیا۔ اس تنبیہ میں پورٹو ریکو، برٹش ورجن آئی لینڈز اور دیگر کیریبین جزائر کے لیے بھی خبردار کیا گیا تھا۔
تاہم بعد ازاں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وارننگ واپس لے لی گئی اور اعلان کیا گیا کہ فوری سونامی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔
عالمی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل
عالمی سطح پر بھی اس تباہی پر فوری ردعمل سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا وینزویلا کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ دونوں زلزلے انتہائی تباہ کن نوعیت کے تھے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح نایب بوکیلے، لوئس ابینادر اور لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے امداد کی پیشکش کی۔
یو ایس جی ایس کی خوفناک پیش گوئی
امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی تجزیے میں خبردار کیا کہ زلزلوں کی شدت اور متاثرہ آبادی کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔
ادارے نے ابتدائی اندازے میں کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے جب کہ وسیع پیمانے پر تباہی کے امکانات موجود ہیں۔
اگرچہ حکام نے ابھی تک ملک گیر سطح پر ہلاکتوں اور زخمیوں کے حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملبہ ہٹنے کے بعد نقصانات کی اصل تصویر سامنے آئے گی۔
🚨Venezuela has declared a state of emergency after massive back-to-back earthquakes toppled buildings in Caracas, knocked down power lines and devastated the capital’s main airport. pic.twitter.com/lOkj7ptsHR
— JerryXHub💫 (@JerryXhandle) June 25, 2026
وینزویلا زلزلوں کی زد میں کیوں رہتا ہے؟
ماہرین کے مطابق وینزویلا ایک ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جہاں کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک ماضی میں بھی کئی بڑے زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔
1812 میں آنے والے ایک تباہ کن زلزلے میں تقریباً 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 1967 میں کاراکاس ایک مہلک زلزلے سے شدید متاثر ہوا تھا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ حالیہ زلزلہ کئی دہائیوں میں محسوس ہونے والے سب سے طاقتور جھٹکوں میں سے ایک تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
حکام کے مطابق آئندہ 48 سے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ انجینئرز تباہ شدہ عمارتوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔
حکومت نے متاثرہ علاقوں میں عارضی پناہ گاہیں قائم کرنا شروع کر دی ہیں اور بین الاقوامی امداد کی آمد کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
فی الحال پورا وینزویلا ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں، امدادی کارکن وقت کے خلاف دوڑ لگا رہے ہیں اور دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ تباہی کا اصل حجم آنے والے دنوں میں کتنا سامنے آتا ہے۔






