عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مادورو کے دن گنے جاچکے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے کیریبین سمندر میں فوجی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، جہاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے نام پر کئی حملے کیے گئے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا وینزویلا کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟ تو ٹرمپ نے کہا کہ مجھے شک ہے، میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہوگا۔مگر جب سوال کیا گیا کہ کیا مادورو کے اقتدار کے دن ختم ہوچکے ہیں؟ تو صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہاں، میرا خیال ہے کہ ایسا ہی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن وینزویلا کی فوجی تنصیبات پر ممکنہ فضائی حملوں پر غور کر رہا ہے، جسے نارکو ٹیررزم یعنی منشیات سے جڑی دہشتگردی کے خلاف جنگ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اگرچہ ان حملوں کی تردید کی، لیکن امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت کچھ نہیں کہوں گا کہ وینزویلا کے ساتھ کیا کرنا ہے، لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ کچھ نہیں کریں گے۔
دوسری جانب صدر نکولس مادورو، جو کہ امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں نامزد ہیں، نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ریجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی کے بہانے وینزویلا کا تیل ہتھیانا چاہتا ہے۔
امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں میں کیریبین اور بحرالکاہل میں درجنوں حملے کیے، جن میں 65 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’مسیحیوں کے قتل عام کا الزام‘، ٹرمپ کا نائیجیریا میں فوجی کارروائی کے لیے تیاری کا حکم
یو این ہیومن رائٹس چیف وولکر ترک کا کہنا ہے کہ چاہے یہ حملے منشیات فروشوں پر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن بغیر شواہد اور عدالتی کارروائی کے انہیں مارنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکی حکومت نے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے کہ ان حملوں میں مارے گئے افراد واقعی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھے یا انہوں نے امریکا کے لیے کوئی خطرہ پیدا کیا تھا۔







