تفصیلات کے مطابق وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں، خصوصاً ریاست لا گویرا، کو شدید نقصان پہنچایا۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ملبے کے ڈھیروں پر ننگے ہاتھوں، بیلچوں، رسیوں اور بھاری مشینری کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ریاست لا گویرا، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، وہاں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی بڑی تعداد بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو چکی ہے۔ تاہم متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ردعمل آفت کے حجم کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ثابت ہوا ہے۔

متاثرہ علاقے کیرابلیڈا میں امدادی کارروائیوں میں شریک میلیڈی رومیرو نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے درجنوں لاشیں ملبے تلے پڑی ہوئی ہیں، جن میں نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول کئی افراد زندہ تھے لیکن بروقت امداد نہ ملنے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد ابتدائی 48 سے 72 گھنٹے زندہ افراد کو نکالنے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، تاہم وینزویلا میں محدود وسائل اور ناقص انتظامات کے باعث قیمتی وقت ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 17 بین الاقوامی امدادی پروازیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں، جن کے ذریعے 1600 سے زائد امدادی کارکن ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے 14 ہزار سے زائد اہلکار متاثرہ علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔

اس کے باوجود متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرکاری اداروں کو بہت کم فعال دیکھا ہے۔ متعدد مقامات پر شہری خود ہی ملبہ ہٹا کر زندہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔ کئی افراد عمارتوں کے ملبے پر چڑھ کر اپنے پیاروں کے نام پکار رہے ہیں، جب کہ شدید گرمی اور تعفن کے باعث بیشتر افراد نے ماسک پہن رکھے ہیں۔

لا گویرا کے بعض علاقوں میں امدادی ٹیموں نے لاشوں کو سفید رنگ کے ٹرکوں کے ذریعے عارضی شناختی مراکز تک منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ دوسری جانب حفاظتی ساز و سامان کی کمی کے باعث کئی امدادی کارکن موٹرسائیکل ہیلمٹ پہن کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

متاثرہ شہریوں نے حکومتی اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اہلکار امدادی کاموں کے بجائے تباہ شدہ عمارتوں کے سامنے تصاویر اور سیلفیاں بنانے میں مصروف رہے۔ مشتعل شہریوں نے ایک مقام پر ایکسکیویٹر مشین کے آپریٹر کو بھی روک لیا اور حکومتی رویے کے خلاف احتجاج کیا۔

امدادی کارروائیوں کے دوران ایک معمر شخص کو ملبے سے زندہ نکالا گیا، تاہم ہوش میں آنے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے شدید صدمے کا شکار نظر آیا۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق اس تباہ کن زلزلے سے 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں سے تقریباً 20 لاکھ افراد صرف دارالحکومت کاراکاس میں مقیم ہیں۔

ماہرین ارضیات کے مطابق یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں اور آفٹر شاکس نے تباہی میں مزید اضافہ کیا۔ ہفتے کے روز بھی 4.8 شدت کا آفٹر شاک ریکارڈ کیا گیا، جس سے متاثرہ علاقوں میں خوف کی فضا مزید گہری ہو گئی۔

واضح رہے کہ یہ تباہی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے لیے ایک بڑے امتحان کے طور پر سامنے آئی ہے، جنہوں نے رواں برس جنوری میں اقتدار سنبھالا تھا۔ وینزویلا گزشتہ ایک دہائی سے شدید معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب میکسیکو، امریکا، برازیل، ایل سلواڈور، فرانس اور دیگر ممالک سے امدادی ٹیمیں مسلسل وینزویلا پہنچ رہی ہیں۔ میکسیکو کے امدادی کارکنوں نے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں داخل ہو کر زندہ افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا ہے۔

اپنی بہن اور ایک سالہ بھانجے کی تلاش میں مصروف یوناہی ریگالادو نے کہا کہ وہ زلزلے کے اگلے روز سے مسلسل اپنے پیاروں کو آواز دے رہی ہیں۔ ان کے بقولاگر کوئی بھی زندہ ہے، چاہے وہ میرا خاندان ہو یا کوئی اور ہمیں اسے ہر صورت باہر نکالنا ہوگا۔

دریں اثنا، دارالحکومت کاراکاس کے قریب واقع سائمن بولیوار بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق ایک رن وے کو جزوی طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار جیریمی لیون نے کہا ہے کہ امریکی فوج بین الاقوامی امدادی پروازوں، موبائل ہسپتالوں اور ریسکیو ٹیموں کی نقل و حمل میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کی تلاش وقت کے خلاف ایک دوڑ بن چکی ہے۔