امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ-1 بی ویزا کی فیس میں ایک لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد آج غیر معمولی حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی کمپنیاں پہلے ہی ہنر مند افراد کی کمی سے دوچار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکا میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والے افراد دوسرے متبادل ویزوں کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔
ایچ-1 بی ویزا غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ہوتا ہے جنہیں امریکی کمپنیاں خاص پیشوں میں ملازمت دیتی ہیں۔ اس کے لیے کم از کم بیچلر ڈگری یا اس کے مساوی تعلیم ضروری ہے۔
امریکا میں ہر سال صرف 65 ہزار نئے ایچ-1 بی ویزے جاری کیے جاتے ہیں جبکہ اضافی 20 ہزار ویزے امریکی اداروں سے ماسٹرز یا اس سے زیادہ ڈگری رکھنے والوں کے لیے مخصوص ہیں۔
فیس میں اضافے کے بعد متاثرہ افراد اب آٹھ دیگر امریکی ورک ویزوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان میں سی این ایم آئی آنلی ٹرانزیشنل ورکر سی ڈبلیو-1 ٹریٹی ٹریڈرز ای-1 سی این ایم آئی آنلی انویسٹر ای-2 ٹریٹی انویسٹرز ای-2 نو ان مگرانٹ ٹرینی ایچ-3 انٹرا کمپنی ٹرانسفیری ایگزیکٹو ایل-1 اے انٹرا کمپنی ٹرانسفیری ویدھ سپیشلائزڈ نالج ایل-1 بی اور انڈیویژوئلز ود ایکٹراؤڈنری ابیلیٹی او-1 شامل ہیں۔
سی ڈبلیو-1 ویزا شمالی ماریانا جزائر میں کام کرنے کے لیے مخصوص ہے جو ایک سال کے لیے دیا جاتا ہے اور تین سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ ای-1 ویزا امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے رکھنے والے ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جو عالمی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔
ای-2 ویزا ان سرمایہ کاروں کے لیے ہے جن کا امریکا کے ساتھ سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے۔
ایچ-3 ویزا ان افراد کے لیے ہے جو امریکا میں ایسی تربیت لینا چاہتے ہیں جو ان کے ملک میں دستیاب نہیں۔ ایل-1 اے ویزا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایگزیکٹو یا منیجرز کے لیے ہے جبکہ ایل-1 بی ویزا ان ملازمین کے لیے ہے جن کی کمپنی کے لیے خصوصی ٹیکنیکل یا ماہرِ علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ او-1 ویزا ان افراد کے لیے مخصوص ہے جو سائنس آرٹ بزنس تعلیم کھیل یا میڈیا میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہوں۔
امریکی کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ایچ-1 بی ویزا فیس میں اضافے سے امریکا میں ہنر مند افراد کی کمی ہو سکتی ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ یہ صلاحیتیں یورپ سنگاپور اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کا رخ کر لیں گی۔ تاہم امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام مقامی کارکنوں کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ فیس میں اضافے کے باوجود امریکا اب بھی دنیا بھر کے پروفیشنلز کے لیے سب سے پرکشش مقام ہے۔
واضع رہے کہ بڑھتے اخراجات کے باعث یورپ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک بھی بڑی تعداد میں ہنر مند افراد کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہیں۔ مستقبل کے لیے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈی ایچ ایس نے کہا ہے کہ وہ ہنر مند افراد کی آمد کے لیے دیگر متبادل راستوں پر غور کر رہا ہے







