لیکن کیا ہو کہ اگر میں کہوں آپ ایک ایسی  ماسٹر پلاننگ  دیکھ رہے ہیں جسے سمجھنے میں دنیا کو دہائیاں لگ جائیں گی؟

سب کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایران میں ایسی جنگ لڑ رہا ہے جو جیتی نہیں جا سکتی۔ وہ کینیڈا کو دھمکیاں دے رہا ہے، میکسیکو سے پنگے لے رہا ہے اور گرین لینڈ خریدنے کی بات کر رہا ہے۔ بظاہر یہ پاگل پن لگتا ہے۔

لیکن اس کے پیچھے کی کہانی یہ ہے کہ دنیا کا 20 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے آتا ہے۔ چین، یورپ، جاپان، سب اسی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر  اسٹریٹ آف ہرمز  بند ہو جائے تو مڈل ایسٹ کا تیل رک جائے گا۔ مگر نارتھ امریکہ؟ اس کے پاس وینزویلا کے ریزروز بھی ہیں اور اپنے بھی۔

لیکن یہ کہانی صرف تیل کی نہیں۔ امریکہ پر 39 ٹرلین ڈالر کا قرض ہے، جسے جاپان، چین اور یورپ جیسے ممالک فائنانس کر رہے ہیں۔

یہ ممالک امریکی ٹریژری بانڈز صرف اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ڈالر محفوظ ہے۔ لیکن ٹرمپ نے دنیا کو ایک نئے  ڈالر ٹریپ  میں ڈال دیا ہے۔

اگر دنیا کی انرجی سپلائی امریکہ کے ہاتھ میں آ گئی، تو یہ قرض دینے والے ممالک کبھی امریکی قرضوں سے آزادی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ جس دن کسی نے ڈالر چھوڑنے کی کوشش کی، اسی دن امریکی انرجی کا نل بند ہو جائے گا۔

میڈیا ٹرمپ کو ایک  بے قابو  لیڈر دکھاتا ہے، لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ ہر  غلط  فیصلے کے بعد، امریکہ کو ایک اسٹریٹجک فائدہ ہو رہا ہے؟ اسے کہتے ہیں  کنٹرولڈ کییوز ۔

مطلب یہ کہ دنیا کو الجھائے رکھنا تاکہ وہ آپ کی اصل چالوں کو نہ سمجھ سکے۔ جب تک دنیا یہ بحث کر رہی ہے کہ  ٹرمپ کتنا پاگل ہے ، وہ خاموشی سے اپنے ملک کی سپلائی چین کو محفوظ کر رہا ہے۔

وہ میکسیکو میں مینوفیکچرنگ لا رہا ہے، کینیڈا کے وسائل پر گرفت مضبوط کر رہا ہے اور جنوبی امریکہ کو اپنی معاشی چھتری تلے لا رہا ہے۔ یہ پاگل پن نہیں، یہ ایک  نارتھ امریکن قلعہ بندی  ہے۔

اب واپس پیوٹن کی طرف چلتے ہیں۔ اس نے بھی یہی کیا تھا، روس کو سیلف سفیشنٹ (خود کفیل) بنایا اور آج وہی روس جنگ کے طوفان میں کھڑا ہے۔

ٹرمپ شاید اسی فارمولے کو بڑے پیمانے پر لاگو کر رہا ہے۔ گرین لینڈ، کینیڈا، میکسیکو، پیناما، یہ سب صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، یہ اس نئے  امریکن قلعے  کی اینٹیں ہیں۔ وہ پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر چھوڑ کر، اپنے ملک کو ایک ناقابلِ تسخیر جزیرہ بنا رہا ہے۔

تو کیا ٹرمپ واقعی بے وقوف ہے؟ یا وہ ایک ایسا  گریٹسٹ پریزیڈنٹ  بننے جا رہا ہے جو  نیو ورلڈ آرڈر  کو جڑ سے اکھاڑ کر  ٹرمپ ورلڈ آرڈر  کی بنیاد رکھ رہا ہے؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔