امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرینی صدر ولادیمیر زلینسکی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں روسی صدر پیوٹن کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر قائل کر سکتا ہوں۔ پیوٹن سے ہنگری میں دوہری ملاقات متوقع ہے، جب کہ زلینسکی سے بھی رابطے میں رہوں گا۔ میرا خیال ہے پیوٹن اور زلینسکی دونوں جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ انڈیا اب روس سے تیل نہیں خریدے گا، مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ یوکرین سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہم نے مشرقِ وسطیٰ میں 59 ممالک کو ایک مؤقف پر متفق کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نہیں کہہ سکتا کہ یوکرین اپنے علاقے واپس لے سکے گا یا نہیں، تاہم ہم ٹوماہاک میزائل اور دیگر جدید ہتھیار یوکرین بھیج رہے ہیں۔ امید ہے کہ جنگ ٹوماہاک کے بغیر ختم کی جا سکے گی۔

امریکی صدرنے دعویٰ کیا کہ ہم جنگ کے خاتمے کے بہت قریب ہیں۔ میں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوا کر لاکھوں زندگیاں بچائیں۔ میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں، کسی اور امریکی صدر نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان-انڈیا جنگ رکوا کر میں نے بے شمار زندگیاں بچائیں۔ میں نوبیل انعام کے لیے نہیں بلکہ انسانیت بچانے کے لیے جنگیں روکتا ہوں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب پاکستان افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہا ہے، پاک، افغان جنگ ختم کروانا آسان ہے، جنگیں ختم کروانا مجھے اچھا لگتا ہے لیکن ابھی امریکا میں بھی کام ہیں۔

دوسری جانب یوکرینی صدر زلینسکی نے کہا کہ غزہ جنگ بندی کے بعد اب ٹرمپ کے پاس روس یوکرین تنازع ختم کرانے کا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی توانائی کمپنیوں سے ملاقات کی ہے جو یوکرین کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی میں مدد کے لیے تیار ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں، مگر پیوٹن نہیں چاہتے، لہٰذا ان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔