اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور فریقین کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو مزید جانی نقصان یا انسانی بحران کا سبب بن سکیں۔ سیکریٹری جنرل نے تحمل، صبر اور سفارتی ذرائع کے استعمال پر زور دیا تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ہاقوام متحدہ باقاعدگی سے خطے کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اطلاع موصول ہوتے ہی عالمی برادری کے ساتھ مشاورت کرے گا۔ انہوں نے عالمی کمیونٹی پر بھی زور دیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔
تحلیل کاروں کے مطابق حالیہ جھڑپیں خطے میں انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں بسنے والے شہریوں اور افغان پناہ گزینوں کے لیے۔ اقوام متحدہ کی تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کو فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور سفارتی راستوں کے ذریعے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ نے امن قائم رکھنے کے لیے پاکستانی اور افغان حکام سے مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کی اپیل کی ہے، تاکہ سرحدی کشیدگی کے منفی اثرات کم کیے جا سکیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔







