انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا ہے کہ تین باتیں بالکل واضح ہیں، پہلی یہ کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی میزبانی کرتا ہے اور ان کی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری بات یہ ہے کہ  پاکستان کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ وہ اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام اپنے پڑوسی ممالک پر ڈال دیتا ہے اور تیسری حقیقت یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کی اپنی سرزمین پر خودمختاری سے ناراض ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ انڈین وزارتِ خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان اور افغانستان نے بدھ کے روز 48 گھنٹے کے سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعرات کو افغانستان میں دھماکوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا، طالبان حکومت نے ان دھماکوں کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا تھا۔

بعد ازاں طالبان فورسز نے ہفتے کو سرحدی علاقے میں جوابی کارروائی کی، جس پر پاکستان نے بھی سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہفتے سے شروع ہونے والے ان جھڑپوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ بدھ کو ہونے والی نئی کارروائیوں میں بھی کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

افغان حکام کے مطابق کابل میں ہونے والے دھماکے ایک آئل ٹینکر اور جنریٹر کے پھٹنے سے ہوئے، تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں دہشت گرد گروپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کابل کے مختلف علاقوں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دھماکوں کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا، جب کہ اسپن بولدک کے محکمہ صحت کے مطابق صرف بدھ کو 40 شہری جاں بحق اور 170 زخمی ہوئے۔

پاکستان نے افغانستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ فراہم کر رہا ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

سیز فائر کے حوالے سے پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹوں کے لیے سرحدی فائر بندی اس لیے کی گئی ہے تاکہ تعمیری مذاکرات کے ذریعے مثبت حل نکالا جا سکے۔