صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدوں پر شدید جھڑپیں رپورٹ ہوئیں، جن میں افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی پوسٹس پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی اور پاک فوج نے جوابی کارروائی کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ ان جھڑپوں کے دوران پاکستان آرمیز کے 23 اہلکار شہید اور 29 زخمی ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے دورے سے روانگی سے قبل ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ جنگیں رکوانے کا کام بخوبی کر سکتے ہیں اور وہ اس بارے میں اقدامات کریں گے۔
انہوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کو حل کیا ہے اور اب انہوں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں بھی جنگ شروع ہو گئی ہے، اس لیے وہ اپنی واپسی تک انتظار کریں گے تاکہ وہ اس معاملے کو سلجھا سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ماضی میں جنگیں رکوا چکے ہیں اور اس طرح لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے اپنے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 اور 2025 میں متعدد کوششیں کیں مگر یہ سب وہ نوبیل انعام کے لیے نہیں کر رہے تھے بلکہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازعات اور پاکستان و انڈیا کے درمیان ممکنہ جنگ جیسے معاملات کے بارے میں بھی انہوں نے توجہ دی ہے اور دنوں میں کئی تنازعات کے حل کی راہیں تلاش کیں۔







