روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ روس نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے صورتحال مزید خراب ہو۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق علاقائی امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر روابط اور مسلسل رابطہ کاری انتہائی اہم ہے، متنازع معاملات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان نے افغانستان سے آنے والے ڈرونز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد کے قریب چار ڈرونز بھیجے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے جدید فضائی دفاعی نظام نے بروقت ان ڈرونز کی نشاندہی کی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو نشانہ بنایا، سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممکنہ خطرے کو ناکام بنا دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا دراندازی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حالیہ صورتحال کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی معاملات اور سکیورٹی امور ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں اور سرحد پار کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکہ، ایران مذاکرات کا نیا دور، ’اعلیٰ سطحی وفود‘ اس ہفتے دوحہ میں ملاقات کریں گے
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ روس کا تازہ بیان بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور معاشی استحکام کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ سرحدی تنازعات کے حل کے لیے مسلسل سفارتی رابطے ضروری ہیں۔







