گزشتہ منگل کو پاکستان نے قطر میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی، جس کی میزبانی امریکی سینٹرل کمانڈ نے کی۔ کانفرنس میں ISF کے کمانڈ اسٹرکچر اور دیگر آپریشنل امور پر غور کیا گیا، جس میں تقریباً 45 ممالک نے شرکت کی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا پاکستان کی اس پیشکش پر شکر گزار ہے کہ وہ اس فورس کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی ملک سے باضابطہ وعدہ لینے سے قبل مزید وضاحت درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہیں اور استحکام فورس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، جن میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ، فنڈنگ اور قواعدِ کار سے متعلق امور پر ابھی مشاورت جاری ہے۔ اگلا مرحلہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک گروپ اور بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان ہوگا، جس کے بعد استحکام فورس کے کردار، ادائیگی کے طریقہ کار اور قواعدِ جنگ کو حتمی شکل دی جا سکے گی۔
دوسری جانب پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ابھی ISF کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور یہ معاملہ تاحال ابتدائی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تقریباً 3 ہزار 500 فوجی دستے ISF کے لیے فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس فورس کے لیے 70 سے زائد ممالک سے فوج یا مالی معاونت کی درخواست کی ہے، جن میں سے 19 ممالک نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ گزشتہ دو برسوں سے جاری اسرائیلی حملوں کے باعث شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کی بنیاد پر اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ ISF کا قیام تھا، جس میں زیادہ تر مسلم ممالک کے فوجی دستے شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔
نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کی، جس میں غزہ میں امن منصوبے اور ISF کی تعیناتی کی اجازت دی گئی۔ پاکستان سمیت 13 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم حماس نے اس قرارداد اور بین الاقوامی فورس کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اسے مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی آئندہ ماہ سے ممکن ہو سکتی ہے، تاہم حماس کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کے طریقہ کار پر تاحال سوالات برقرار ہیں۔







